Express News:
2026-06-03@04:58:04 GMT

ایک پیسے میں دو ٹینک کا دور

اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT

ستمبر 1965 کی جنگ میں ملک بھر میں ’’ایک پیسے میں دو ٹینک ‘‘ کا نعرہ بہت مشہور ہوا تھا۔ جنرل صدر ایوب نے ایک تاریخی تقریرکی تھی جس میں قوم سے پاک فوج کے لیے اسلحے کی خریداری کی اپیل کی گئی تھی کہ اگر وہ اس سلسلے میں ایک پیسہ بھی عطیہ کریں گے تو اس میں بھی ایک پیسہ سے دو ٹینک خریدے جا سکتے ہیں۔

اس اپیل پر قوم نے دل کھول کر عطیات دیے تھے ۔ آج سے ساٹھ سال قبل جنگ ستمبر میں، میں اپنے شہر شکارپور میں تھا اور آئے دن فوج کی نقل و حرکت جاری رہتی تھی اور لاڑکانہ سے سکھر، جیکب آباد اور کندکوٹ جانے کے لیے شکارپور سے گزر کر جانا پڑتا تھا اور جیسے ہی فوجی جوانوں کے ٹرک شکارپور میں گھنٹہ گھر سے گزرتے تھے لوگ پاک فوج کی محبت میں والہانہ طور لپکتے ہوئے ٹرکوں کو گھیر لیتے تھے۔ پاک فوج کے حق میں نعرے بازی کرتے تھے اور پھولوں کے ہار انھیں پہناتے تھے اور شکارپور کی مشہور مٹھائی، اچار، اجرکیں اور دیگر تحائف انھیں پیش کرتے تھے۔

شہر بھر میں فوجی ٹرکوں کی آمد کی اطلاع ملتے ہی گھنٹہ گھر کی جانب دوڑ پڑتے تھے۔ساٹھ سال قبل جنرل ایوب کی فوجی حکومت تھی اور آج کی طرح قوم سیاسی پارٹیوں میں تقسیم تھی نہ سیاسی پارٹیاں متحرک تھیں، صرف جنرل ایوب کی کنونشن مسلم لیگ کا نام ہی سننے میں آتا تھا، پھر جب 1968 میں ایوب حکومت اور حکومتی مسلم لیگ کے خلاف تحریک چلی تو سیاسی پارٹیاں متحرک ہوئیں اور اس وقت 1967 میں ایوب حکومت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو بھی پیپلز پارٹی قائم کر چکے تھے ۔

جنگ ستمبر 1965 کے بعد جنرل ایوب خان کی مقبولیت ختم ہو چکی تھی ۔ ایوب خان کی گول میز کانفرنس میں ملک کے سب سیاستدان شریک نہیں ہوئے تھے اور جنرل یحییٰ نے ایوب خان سے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا جس کے بعد بھارت نے 1971 میں مشرقی پاکستان پر حملہ کرکے بنگلہ دیش بنوا دیا تھا ۔راقم نے 1968 میں شکارپور سے صحافت شروع کی تھی اور اس سے قبل اخبارات میں بچوں کے صفحات کے لیے لکھنا شروع کیا ہوا تھا ۔ 1969 میں ایوب حکومت کا زوال اور جنرل یحییٰ حکومت کا آغاز دیکھا تھا ۔

جنگ ستمبر میں قوم کا جذبہ دیدنی تھا۔ یہ پاک فوج ہی ہے جس نے ملک کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے قربانیاں دینے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس کی تازہ مثال بھارت کی حالیہ جارحیت کے خلاف پاک فوج کی دس مئی کی شاندار کامیابی ہے ، بھارت پاک فوج کے ہاتھوں دندان شکن جواب ملنے کے بعد پاکستان کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا۔

پاک فوج کی اس شاندار کامیابی کا سہرا پاک فضائیہ، پاک فوج اور پاک نیوی کے سر ہے اور پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے دس مئی کو نماز فجر کے بعد تلاوت کلام پاک اور دعا کے بعد آپریشن بنیان مرصوص کا آغاز کرایا، اس میں اللہ پاک نے مدد کی اور پاک فوج کو وہ کامیابی ملی جس کا تصور بھی نہیں تھا اور پاک فوج کے لیے بھارت نے بھرپور پروپیگنڈا کیا تھا کہ وہ تو مالی طور پر بھی کمزور ہے کہ جس کو اس کے عوام کی بھی حمایت حاصل نہیں مگر اسی پاک فوج نے بھارت کے 80 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کے مقابلے میں اپنے صرف ساڑھے سات ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کے ساتھ بھارتی غرور خاک میں ملا کر ثابت کر دیا کہ بڑا دفاعی بجٹ نہیں ملک سے محبت اور ملک کے لیے جان دینے کا جذبہ اہم ہے جو کامیابی دلاتا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ ہمارا دفاعی بجٹ ضرورکم ہے اور موجودہ حکومت نے فوجی بجٹ بڑھانے کے بجائے اپنے ارکان پارلیمنٹ، وزیروں اور ججز کو نوازا ہے مگر اب ضروری ہے کہ قوم 60 سال قبل کی طرح ایک پیسہ دو ٹینک کے جذبے سے پاک فوج کی مالی استطاعت بڑھانے کے لیے حکومت کو نہیں فوج کو عطیات دے تاکہ پاک فوج کا دفاعی بجٹ بڑھے اور وہ موجودہ دفاعی ضروریات کے مطابق ملک کے مکار دشمن بھارت سے مقابلے کے لیے خود کو مزید مضبوط بنائے جس نے مستقبل میں بھی ملک کا دفاع کرنا ہے۔ قوم بھی سیاسی اور مفاد پرستانہ ذہن رکھنے والوں کے مذموم پروپیگنڈے میں نہ آئے اور موجودہ تاریخی کامیابی حاصل کرنے والی فوج کے سربراہ کا ساتھ دے جن کی بے لوث قیادت سے یہ کامیابی ملی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاک فوج کی پاک فوج کے دفاعی بجٹ دو ٹینک اور پاک کے لیے کے بعد

پڑھیں:

واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار

اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔

، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔

دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد