قومی اسمبلی میں یونیورسٹیز میں مستحق طلبا کیلئے مفت تعلیم کا بل منظور
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
ویب ڈیسک: قومی اسمبلی نے یونیورسٹیوں میں مستحق طلبا و طالبات کے لیے 25 فیصد مفت تعلیم کا کوٹہ رکھنے سے متعلق اہم قانون منظور کر لیا ہے۔
پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کے اجلاس میں دو قوانین کی منظوری دی گئی جن میں سرفہرست "یونیورسٹیوں میں مفت تعلیم کے کوٹے" کا بل شامل تھا۔ اس قانون کے تحت اعلیٰ تعلیمی ادارے اپنی نشستوں کا 25 فیصد کوٹہ مستحق اور نادار طلبا کے لیے مختص کریں گے۔
لاہور؛سی سی ڈی کیساتھ مقابلہ، 2 ملزم ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے
اس کے علاوہ ایوان میں ادارہ برائے سائنس و ٹیکنالوجی بل 2024 اور بین الاقوامی امتحانات بورڈ بل 2024 کی منظوری بھی دے دی گئی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ کی جانب سے سائنس و ٹیکنالوجی بل میں بھی 25 فیصد مفت تعلیم کا کوٹہ شامل کرنے کی ترمیم منظور کر لی گئی۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کی رکن عالیہ کامران کی جانب سے دی گئی ترمیم جس میں تعلیم کو صوبائی معاملہ قرار دے کر بل منظور نہ کرنے کی تجویز دی گئی تھی ، اسے مسترد کر دیا گیا۔
لاہور :فول پروف سیکیورٹی کیلئے ڈولفن اسکواڈ ہائی الرٹ
یاد رہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس آج صبح 11 بجے دوبارہ ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی مفت تعلیم
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔