قومی اسمبلی کا اجلاس، وزیر داخلہ کی عدم موجودگی زیر بحث
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
— فائل فوٹو
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر داخلہ کی عدم موجودگی پر اراکین میں بحث ہوئی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ یہاں نہیں آتے جبکہ اس ایوان نے ایک قرارداد منظور کی تھی، اس متعلق کوئی جواب نہیں آیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی عبد القادر پٹیل نے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس ہاؤس کا ہر ممبر چیخ چیخ کر کہتا ہے وزیر داخلہ کو دیکھنا چاہتے ہیں، وہ صرف یہاں آ کر اسپیکر ڈائس کے سامنے اپنی شکل دکھا دیں۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اراکین اسمبلی کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ قرارداد سے متعلق ایوی ایشن وزیر سے بات کر کے ایوان کو آگاہ کروں گا، ایئرپورٹ سے متعلق پوچھ کے بتا سکوں گا۔
ان کا کہنا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے لیے میرے دل میں بہت عزت ہے، ہم نے بے نظیر بھٹو کے نام پر اسپتال کا نام بھی رکھا۔
وزیر داخلہ کی عدم موجودگی سے متعلق سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کے آنے سے متعلق ان سے بات کروں گا کہ وہ اپنی زیارت کروا دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔