پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستانی انٹرنیٹ پر کیا سرچ کرتے رہے؟ حیران کن انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد حالیہ دنوں میں گوگل پر پاکستان میں سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی شخصیت بن گئے ہیں۔
گوگل ٹرینڈز کے مطابق، 12 مئی کی رات 2 بجے "Aurangzeb" کے تلاش کے رجحان نے بلند ترین سطح پر پہنچ کر گزشتہ ہفتے کا سب سے اونچا پوائنٹ حاصل کیا۔اس کے بعد سے اب تک عوامی دلچسپی اسی طرح برقرار ہے جو ایئر وائس مارشل اورنگزیب کی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔
ایئر وائس مارشل کی سوشل میڈیا پر مقبولیت نیوز بریفنگ کے دوران دلچسپ انداز گفتگو، پیشہ ورانہ مہارت پرعبور اور پُرمزاح انداز کے باعث بڑھی ہے۔اس وائرل ویڈیو کلپ میں ایئر وائس مارشل اورنگزیب کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ جہاں سے پچھلے روز چھوڑی تھی، وہیں سے بات شروع کروں گا یعنی پی اے ایف بمقابلہ آئی اے ایف مقابلہ چھ صفر سے ہمارے حق میں رہا۔
انٹربینک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر سستا ہو گیا
ان کا یہ بیان پاکستان کے ہاتھوں بھارتی فضائیہ کے پانچ طیاروں اور ایک ڈرون کی تباہی کے پس منظر میں دیا گیا تھا جن میں 3 رافیل، ایک SU-30، ایک MiG-29، اور ایک ڈرون شامل تھے۔
ایئر وائس مارشل اورنگزیب نے کہا تھا کہ پی اے ایف نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارتی حملوں کے جواب میں آپریشن بُنیان مرصوص شروع کیا جس کا مقصد بھارت کی جانب سے شہریوں پر حملوں کا منہ توڑ جواب دینا تھا۔
بھارتی حملوں میں متعدد پاکستانی شہری، خواتین، بچے اور بزرگ جاں بحق ہوئے تھے۔ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے یہ بھی بتایا تھا کہ پاک فضائیہ نے 1971 کے بعد سے پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں بھارتی فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
بھارت میں کراچی بیکری پر حملہ، لیکن کراچی میں بمبے بیکری کے کیا حالات ہیں؟ پاکستان اور بھارت کا فرق پوری دنیا نے دیکھ لیا
انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے کیے گئے حملوں میں مکمل احتیاط برتی گئی اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔خیال رہے کہ بھارت میں تلاش کی جانے والی مقبول اصطلاحات بھارت میں "Ceasefire meaning" سب سے زیادہ تلاش کی جانے والی اصطلاح رہی جسے 1 کروڑ سے زائد بار سرچ کیا گیا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ایئر وائس مارشل اورنگزیب اے ایف
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔