ایئروائس مارشل اورنگزیب گوگل پر سب سے زیادہ تلاش کی جانے والی شخصیت بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد حالیہ دنوں میں گوگل پر پاکستان میں سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی شخصیت بن گئے ہیں۔
گوگل ٹرینڈز کے مطابق، 12 مئی کی رات 2 بجے "Aurangzeb" کے تلاش کے رجحان نے بلند ترین سطح پر پہنچ کر گزشتہ ہفتے کا سب سے اونچا پوائنٹ حاصل کیا۔
اس کے بعد سے اب تک عوامی دلچسپی اسی طرح برقرار ہے جو ایئر وائس مارشل اورنگزیب کی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔
ایئر وائس مارشل کی سوشل میڈیا پر مقبولیت نیوز بریفنگ کے دوران دلچسپ انداز گفتگو، پیشہ ورانہ مہارت پرعبور اور پُرمزاح انداز کے باعث بڑھی ہے۔
اس وائرل ویڈیو کلپ میں ایئر وائس مارشل اورنگزیب کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ جہاں سے پچھلے روز چھوڑی تھی، وہیں سے بات شروع کروں گا یعنی پی اے ایف بمقابلہ آئی اے ایف مقابلہ چھ صفر سے ہمارے حق میں رہا۔
ان کا یہ بیان پاکستان کے ہاتھوں بھارتی فضائیہ کے چھ طیاروں کی تباہی کے پس منظر میں دیا گیا تھا جن میں 3 رافیل، ایک SU-30، ایک MiG-29، اور ایک ڈرون شامل تھے۔
ایئر وائس مارشل اورنگزیب نے کہا تھا کہ پی اے ایف نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارتی حملوں کے جواب میں آپریشن بُنیان مرصوص شروع کیا جس کا مقصد بھارت کی جانب سے شہریوں پر حملوں کا منہ توڑ جواب دینا تھا۔
بھارتی حملوں میں متعدد پاکستانی شہری، خواتین، بچے اور بزرگ جاں بحق ہوئے تھے۔
ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے یہ بھی بتایا تھا کہ پاک فضائیہ نے 1971 کے بعد سے پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں بھارتی فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے کیے گئے حملوں میں مکمل احتیاط برتی گئی اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
خیال رہے کہ بھارت میں تلاش کی جانے والی مقبول اصطلاحات بھارت میں "Ceasefire meaning" سب سے زیادہ تلاش کی جانے والی اصطلاح رہی جسے 1 کروڑ سے زائد بار سرچ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایئر وائس مارشل اورنگزیب کی جانے والی اے ایف
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔