آئی ایم ایف جون میں بنگلہ دیش کو ایک ارب 30 کروڑ ڈالر جاری کرے گا
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقین نے ریونیو مینجمنٹ، کرنسی ایکسچینج ریٹ اور دیگر اصلاحاتی فریم ورک پر اتفاق کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) 4 ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرض پروگرام کا چوتھا جائزہ مکمل کرنے اور شرح مبادلہ میں اصلاحات پر بات چیت میں اہم پیشرفت کے بعد جون میں بنگلہ دیش کو ایک ارب 30 کروڑ ڈالر جاری کرے گا۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آئی ایم ایف نے چوتھی اور پانچویں قسط کے فنڈز کو روک دیا تھا اور شرح تبادلہ میں زیادہ لچک پر زور دیا تھا۔
تاہم اپریل میں ڈھاکا میں ہونے والے چوتھے جائزے کے بعد اس ماہ واشنگٹن ڈی سی میں موسم بہار کے اجلاسوں کے دوران مزید تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں ریونیو مینجمنٹ، مالیاتی پالیسی اور زرمبادلہ کے نظام میں اہم اصلاحات پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ تمام معاملات کا بغور جائزہ لینے کے بعد بنگلہ دیشن کی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقین نے ریونیو مینجمنٹ، کرنسی ایکسچینج ریٹ اور دیگر اصلاحاتی فریم ورک پر اتفاق کیا ہے۔
اسٹاف لیول معاہدے کی تکمیل کے ساتھ توقع ہے کہ آئی ایم ایف جون تک چوتھی اور پانچویں قسطوں کے لیے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر جاری کرے گا۔ بنگلہ دیشی حکومت نے نیشنل بورڈ آف ریونیو کو بھی تحلیل کر دیا ہے جس کی جگہ مالیات کی وزارت کے تحت 2 ڈویژن قائم کیے گئے ہیں، تاکہ آئی ایم ایف کی ایک اہم شرط کو پورا کیا جا سکے۔ ایک ڈویژن ٹیکس کی پالیسی سنبھالے گا، جب کہ دوسرا ٹیکس کی وصولی اور انتظامیہ کو دیکھے گا جس کا مقصد کارکردگی، شفافیت، اور جوابدہی کو بڑھانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف کروڑ ڈالر
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔