چاہت فتح علی خان کا ملی نغمہ جاری ’یہ براھموس سے زیادہ خطرناک ہے‘
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
بھارت پر فتح حاصل کرنے کے بعد پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سوشل میڈیا سے شہرت حاصل کرنے والے متنازع مزاحیہ گلوکار چاہت فتح علی خان نے ملی نغمہ ریلیز کر دیا۔
انہوں نے یوٹیوب اور انسٹاگرام پر اپنے نئے نغمے ’میرے وطن میرے چمن‘ کی 4 منٹ 21 سیکنڈ کی ویڈیو شیئر کی۔ جس پر صارفین مزاحیہ انداز میں تنقید کرتے نظر آئے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ براھموس سے زیادہ خطرناک ہے‘۔
یہ براھموس سے ذیادہ خطرناک ھے۔ pic.
— صحرانورد (@Aadiiroy2) May 14, 2025
ایک ایکس صارف نے چاہت فتح علی خان نے نئے نغمے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جوانوں کا جذبہ ختم کرنے والا گانا ہے۔
Jawano ka jaazba khatam krne wala song???? pic.twitter.com/bBWkfIl2PY
— ???????? Faujeet Fija (@Pakistan44life) May 14, 2025
حرا نامی صارف لکھتی ہیں کہ یہ نغمہ سننے کے بعد انڈین فوج نے پاکستان سے کہا آئندہ بم مار دینا لیکن یہ ٹارچر مت دینا۔
پاکستانی پائیلٹ چاہت فتح علی کا انڈیا کے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد دوران تفتیش ملی نغمہ جاری۔
یہ سننے کے بعد انڈین فوج نے پاکستان سے کہا۔ آئندہ بم مار دینا لیکن یہ ٹارچر مت دینا۔ pic.twitter.com/eVIBMiDGs6
— Hira ???????? (@hirarafiq04) May 14, 2025
حسن خان نے سوال کیا کہ انڈیا نے ہمارا پائلٹ چھوڑ دیا کیا؟
ارے بھائی انڈیا نے ہمارا پائلٹ چھوڑ دیا کیا https://t.co/BOfARwNhPm
— Hassan Khan Sajrani (@alih53126) May 14, 2025
خیال رہے کہ چاہت فتح علی خان اس سے قبل بھی مختلف گانوں کے ری میک جاری کرتے رہے ہیں، انہوں نے پنجابی گانے ’اکھ لڑی بدوبدی‘ کو اپنے منفرد انداز میں گانے کے بعد شہرت حاصل کی تھی، اس گانے کو پہلی بار ملکہ ترنم نورجہاں نے 1973 میں ریلیز ہونے والی پاکستانی فلم ’بنارسی ٹھگ‘ کے لیے گایا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بھارت کشیدگی چاہت فتح علی خان ملی نغمہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک بھارت کشیدگی چاہت فتح علی خان ملی نغمہ چاہت فتح علی خان ملی نغمہ کے بعد
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :