سیاسی جماعتوں کے قائدین کی ملاقاتیں اور ملکی سلامتی پر مشاورت جاری رہنی چاہیے، گورنر پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
گورنر پنجاب سلیم حیدر— فائل فوٹو
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے قائدین کے درمیان ملاقاتیں اور ملکی سلامتی کے امور پر مشاورت جاری رہنی چاہیے۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر سے جنرل سیکریٹری استحکام پاکستان پارٹی پنجاب شعیب صدیقی کی ملاقات ہوئی، رکن قومی اسمبلی موسیٰ گیلانی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ملاقات میں موجودہ ملکی سیاسی و دفاعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
گورنر پنجاب سلیم حیدر کا کہنا ہے کہ تمام اداروں کو اپنے اپنے احتساب کی ضرورت ہے۔
گورنر پنجاب نے صدر آئی پی پی عبد العلیم خان کی زیر قیادت پارٹی کی خدمات کا اعتراف کیا۔
اس موقع پر شعیب صدیقی نے گورنر کی سیاسی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ پاک فوج کے بھرپور جوابی وار سے خطے سے لمبی جنگ کے خطرات ٹل گئے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی اشتعال انگیزی کے باوجود پاک آرمی نے تحمل کا دامن نہیں چھوڑا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گورنر پنجاب سلیم حیدر
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔