چاہتے ہیں ایران عظیم ملک بنے، اور یہ جوہری ہتھیاروں کے بغیر بھی ممکن ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا دنیا میں امن کا خواہاں ہے اور ایران کے ساتھ ایک نئی جوہری ڈیل کرنے کی کوشش جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
قطر کے دارالحکومت دوحا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ایران ایک عظیم ملک بنے، اور یہ جوہری ہتھیاروں کے بغیر بھی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے نئی ڈیل کی شرائط پر اتفاق کیا ہے۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کے ’گمراہ کن‘ بیان امریکی اور اسرائیلی جرائم کو نہیں چھپاسکتے، ایران
امریکی صدر نے یوکرین جنگ کے حوالے سے کہا کہ ہم جنگ بندی کے لیے پرامید ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قطر امریکا سے 200 ارب ڈالر کے بوئنگ طیارے خریدے گا، جو دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو مزید فروغ دے گا۔
ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو بائیڈن نے امریکا کو بہت نقصان پہنچایا اور اربوں ڈالر ضائع کیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر ایران جو بائیڈن جوہری ہتھیار ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین جنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ایران جو بائیڈن جوہری ہتھیار ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین جنگ ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔