ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام پر نئی پابندیاں عائد
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
نیویارک(اوصاف نیوز)ٹرمپ انتظامیہ نے ایک بار پھر ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی حمایت کرنے والے 6 افراد اور 12 کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں، جن میں کئی چینی شہری بھی شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق نئی پابندیاں ان تنظیموں پر ہیں جو ایرانی حکومت کو ایسے اہم مواد کی مقامی سطح پر تیاری میں مدد فراہم کر رہی ہیں جو تہران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے ضروری ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران کی جانب سے میزائل اور ان کے پرزے مقامی طور پر تیار کرنے کی کوششیں امریکا اور خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں اسلئے ایران کو بین البراعظمیٰ بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
واضح رہے کہ یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات ہو رہے ہیں۔
برکینا فاسو؛ فوجی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، 60 افراد ہلاک
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بیلسٹک میزائل
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔