ایران آج بھی امام خمینی کے مشن پر فلسطین کیلئے ہر قسم کی امداد میں سب سے آگے ہے، امین انصاری
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے رہنما متحدہ علماء محاذ نے کہا کہ قبلہ اول کی آزادی و تحفظ کیلئے پاکستان کے فاتح بنیان مرصوص آپریشن حافظ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر احمد شاہ کی قیادت میں مسلم حکمران اپنی مشترکہ اسلامی فوج تشکیل دیں، اسرائیل اور اس کے جنگی جرائم میں شریک سہولت کار امریکہ غزہ فلسطین کی جنگ ہار چکے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ علماء محاذ پاکستان کے بانی سیکریٹری جنرل مولانا محمد امین انصاری نے اپنی میزبانی میں نیو سیکریٹریٹ گلشن اقبال میں منعقدہ یوم نکبہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 15 مئی 1948ء اسرائیلی ناجائز ریاست کے قیام کو 77 سال گزرنے کے باوجود امت مسلمہ بیت المقدس پر اسرائیلی قبضہ تسلط انسانیت سوز وحشیانہ مظالم و جارحیت کو نہیں بھولے اور ہر سال 15 مئی کو اسرائیلی ریاست کے قیام کیخلاف احتجاجاً یوم نکبہ مناتے ہیں، آیت اللہ امام خمینیؒ نے اسلامی انقلاب ایران کے بعد سب سے پہلا کام اسرائیلی سفارتخانہ ختم کیا اور جمعة الوداع کو یوم القدس کے طور پر منائے جانے کا جرأت مندانہ اعلان کیا، قبلہ اول و فلسطین کی آزادی کیلئے قابض غاصب ظالم اسرائیل سے نبرد آزما مقاومتی تحریکوں حماس، حزب اللہ کو منظم و فعال کرکے ہر قسم کی بھرپور امداد کی اور ایران آج بھی امام خمینیؒ کے مشن کو زندہ رکھے ہوئے غزہ فلسطین کیلئے تمام تر پابندیوں و دباؤ کے باوجود ہر قسم کی امداد و نصرت میں سب سے آگے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کی قرارداد میں اسرائیلی ریاست کے قیام سے قبل ہی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ناجائز ریاست اور عالم اسلام کے قلب میں خنجر گھونپنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے واضح دوٹوک اعلان کیا تھا کہ پاکستان اسرائیلی ناجائز ریاست کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔ مولانا امین انصاری کا مزید کہنا تھا کہ قبلہ اول کی آزادی و تحفظ کیلئے پاکستان کے فاتح بنیان مرصوص آپریشن حافظ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر احمد شاہ کی قیادت میں مسلم حکمران اپنی مشترکہ اسلامی فوج تشکیل دیں، اسرائیل اور اس کے جنگی جرائم میں شریک سہولت کار امریکہ غزہ فلسطین کی جنگ ہار چکے ہیں، پاکستان کے علماء مشائخ و غیور عوام فلسطین و کشمیر کے مظلوم مسلمانوں اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان کے فلسطین کی
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔