City 42:
2026-07-24@05:47:39 GMT

عالمی دنیا میں بھارت کا جھوٹ بے نقاب ہوا ؛ اسحاق ڈار

اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT

  سینٹ اجلاس میں قائد ایوان اسحاق ڈار  نے اظہار خیال  کرتے ہوئے آپریشن  بنیان مرصوص پر تفصیلی  بات  کی ، انہوں نے کہا  پاکستان نے کسی کو سیز فائر کے لیے کوئی درخواست نہیں دی ہے،وزیر اعظم نے کہا ہے کہ جنگ کرنی ہے تو تیار ہیں بات کرنے ہے تو بھی تیار ہیں،

میں نے ایک بات کی کہ بھارت جو کرکے گا پاکستان ویسے ہی اس کا جواب دے گا، ہم نے پاکستان کی ایئر اسپیس بھارت کی پروازوں کے لیے مکمل بند کردی،تمام ممالک کے ساتھ سفارتی سطح پر رابطہ میں تھے، 

پاکستان پیپلز پارٹی زون 169 کا پاک افواج کے حق میں مظاہرہ

پوری دنیا نے کہا کہ دونوں ممالک صبر کا مظاہرہ کریں، پہلگام واقعہ کے بعد فوری انڈین میڈیا نے پاکستان پر الزام تراشی کرنا شروع کردی، ہم نے ذمہ داری سے بیان دیا کہ ہمارا پہلگام واقعہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، ہم نے ثابت کیا کہ عالمی دنیا کو بھارت نے غلط بیانی کی ہے، 
بھارت نے 7 مئی کی رات کو جھوٹ بولا کہ 15 جگہوں پر حملہ ہوا، انہوں نے سکھ کمیونٹی کو اکسانے کے لیے یہ الزامات لگائے،ایک نیا ڈرامہ شروع ہوا کہ ڈرون بھیجنا شروع کردیے، لگ بھگ 80 ڈرون پاکستان میں پھر رہے تھے، پاکستان فورسز کو اتھارٹی دی گئی کہ اب صبر کے بجائے آپریشن فیز 1 پر عمل کریں،آرمڈ فورسز کو مخصوص پلان دیا گیا، جس پر عمل شروع ہوگیا، باہر کے ممالک نے بھی تسلیم کیا کہ پاکستان نے بھارت کے سکھوں مقام پر حملہ نہیں کیا، کوئی پاکستان سے پہلے ایف 16 نہیں اڑا، ہم نے دونوں دفعہ خود کا دفاع کرنے کے لیے بھارت پر حملہ کیے، انٹرنیشنل قانون کے مطابق ہم نے فوری طور پر بھارت کو جواب دیا، انٹرنیشنل فورم پر آپ کی کچھ ذمہ داریاں بنتی ہیں،

نریکنگ نیوز: پٹرولیم کی قیمت میں بھاری کمی

جعفر ایکسپریس پر بھارت نے تاحال کوئی مذمتی بیان جاری نہیں کیا، ہم نے بین الاقوامی سطح پر کہا کہ لکھیں پہلگام مقبوضہ جموں کشمیر میں واقع ہے، 

اسحاق ڈار نے کہا پاکستان نے کسی کو سیز فائر کے لیے کوئی درخواست نہیں دی ہے،ہم عزت و وقار کے ساتھ امن چاہتے ہیں،ہم نے جب آپریشن فیز 1 مکمل کرلیا تو کہا گیا بھارت جنگ روکنے کے لیے تیار ہے، کہا گیا کہ جے شنکر کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان کردیا گیا، میری اس دوران چائنہ، ترکی سے بات چیت جاری رہی،بھارت کا بیانیہ نہیں بک سکا اس تمام تر صورتحال میں انڈیا کا بیانیہ نہیں بنا،دنیا نے دیکھا جو کہا وہ ثابت ہوا،سیز فائر ساڑھے چار بجے ہوا یہ گھنٹوں میں بھاگ گئے،پاکستان کسی کی بالادستی نہیں مانے گا،
کچھ پوسٹوں پر انڈیا سفید جھنڈے لہرانے پر مجبور ہوا،کچھ پوسٹس ایسی تھیں جو 1947 سے انھوں نے کبھی نہیں چھوڑی تھیں،وہاں انھوں نے سفید جھنڈا لگا دیا،اب بات ڈائیلاگ پر جائے گی،سیاسی ڈائیلاگ  ہو گا،سارے مسائل وہاں زیر بحث ہوں گے،ہم نے کہا ہے کہ کمپوزٹ مذاکرات ہوں،ملٹری کے تو رابطے ہو رہے،وزیر اعظم نے کہا ہے کہ جنگ کرنی ہے تو تیار ہیں بات کرنے ہے تو بھی تیار ہیں،
کشمیر کو ہڑپ کرنے کے بھارتی اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا،سندھ طاس معاہدہ پر صدر ورلڈ بنک کا بیان آگیا ہے،اس جنگ میں انڈیا کو تقریبا 3 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا،ہمارے 40 معصوم شہری،11 فوجی شہید ہوئے 180 زخمی۔ہوئےانڈیا سے کوئی خبر نہیں آئی ہوگی کہ کسی شہری کو نقصان پہنچا ہے،شہدا اور زخمیوں کی فوج کے ساتھ ملکر مدد اور کفالت کرینگے،ہم نے انڈیا کی فوج تنصیبات پر حملے کئے

امریکی صدر نے ایک بار پھر ’ٹرمپ ڈانس‘ کرکے دکھا دیا

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار