Daily Ausaf:
2026-07-24@02:36:54 GMT

ناٹ نریندر مودی بٹ سرینڈر مودی

اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT

نریندر مودی کی تقریر ایک ابنارمل اور ہارے ہوئے جواری کی تقریر تھی، مودی نے براہ راست پاکستانی فوج کو دہشت گردی کے لئے کھاد پانی دینے کی ذمہ دار قرار دیا۔ مودی کی تقریر میں نیو نارمل کے تین نکات یہ ہیں کہ 1۔ دہشت گردی ہو گی تو کارروائی کریں گے،2۔ نیوکلیئر بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے،3۔ آتنک کی سرپرست سرکار اور آتنک کے واقعات الگ الگ نہیں دیکھیں گے،مودی نے اپنی تقریر میں پھر کہا کہ تجارت اور دہشت گردی ساتھ نہیں چلے گی،پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے، مودی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر پاکستان سے بات ہوگی تو دہشت گردی پر ہوگی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر (یعنی آزاد کشمیر)پر ہی بات ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے ایوان اقتدار میں بھی نریندر مودی کے ان زہریلے خیالات کا عملی توڑ کرنے کے لئے کچھ غور و فکر کیا جا رہا ہے؟ یا ابھی تک ایوان اقتدار میں راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے،سوال یہ بھی ہے کہ مودی مردودی کے نزدیک ’’اتنک‘‘کی اصل تعریف ہے کیا؟ کیا کشمیر کی آزادی کی بات کرنا یا کشمیر کے ایک کروڑ سے زائد مسلمان جو بھارتی غلامی کی زنجیریں کاٹنا چاہتے ہیں کیا یہ ’’اتنک‘‘ ہے، اگر یہ اتنک یعنی دہشت گردی ہے تو پھرآزادی کس بلاکا نام ہے؟
سرینڈر مودی بوکھلائے ہوئے انداز میں کہتا ہے کہ ہم نے پاکستان میں آتنکیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا اور سو آتنکی مارے،اس سٹھیائے ہوئے بدبودار ہندو بڈھے سے کوئی پوچھے کہ بہاولپور کی مسجد سبحان اللہ میں جن معصوم بچوں اور خواتین کو تم نے شہید کیا، کیا وہ معصوم بچے اور خواتین دہشت گرد تھیں؟ امیرالمجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر کے خاندان کے معصوم بچوں اور عورتوں کو شہید کر کے انہیں دہشت گرد قرار دینا اور اس پر مستزاد یہ کہ ان مظلوموں کی شہادتوں کے بعد دہلی میں جشن منانا کیا یہ اس بات کا واضح ثبوت نہیں ہے کہ سرینڈر مودی مولانا محمد مسعود ازہر دشمنی میں نیم پاگل ہو چکا ہے،مولانا محمد مسعود ازہر کشمیر کے ایک کروڑ سے زائد مسلمانوں کی حق خود ارادیت کی بات کرتے ہیں ،وہ صرف باتوں تک ہی محدود نہیں رہتے، بلکہ اس سے کئی قدم آگے بڑھ کر وہ کشمیر کی آزادی کے لئے مصروف مجاہدین کو لیڈ اور ان کی سرپرستی کرتے ہیں ،سرینڈرمودی نے مقبوضہ کشمیر میں نو لاکھ بھارتی فوجی گھسائے ہوئے ہیں، اگر نو لاکھ سے زائد بھارتی سیکورٹی اداروں کے اہلکار کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کو نہیں روک سکتے تو اس میں مولانا مسعود ازہر یا حافظ سعید کا کیا قصور ہے ؟ سرینڈر مودی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بزدلی کے بدلے میں اگر مولانا مسعود ازہر کے خاندان کے معصوم بچوں اور عورتوں کو شہید کر کے انہیں دہشت گرد تسلیم کروانا چاہتا ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہے ،سرینڈر مودی ڈرے اس دن سے کہ اگر مولانا ازہر کے ہندوستانی مجاہدین نے دہلی اور بمبئی میں بے رحمانہ آپریشن شروع کر دیا تو ہندو مائیں بچے جنم دینا چھوڑ دیں گی۔
جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن نے ہمیشہ کی طرح اپنی انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے بجا طور پر درست فرمایا کہ ’’ناٹ نریندر مودی بٹ سرینڈر مودی‘‘ مولانا فضل الرحمن مدبرانہ سیاست کے سرخیل ہیں،ان کی باتیں ہوائی نہیں، بلکہ بڑی گہرائی والی ہوتی ہیں،مودی مردودی کا سرینڈر ہونا تو ثابت ہو چکا،مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر مسلط کی گئی اس جنگ سے کشمیر کا مسئلہ اجاگر ہو گیا ہے۔ پوری قوم نے یکجہتی کا پیغام دیا کہ ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، وطن پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔ اب جب بھی پاک بھارت مذاکرات ہوں گے کشمیر نظر انداز نہیں ہو سکتا۔ جنگ میں شکست نے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا ہے۔ مغربی ٹیکنالوجی ناکام ہو گئی، ایشین صلاحیتیں کامیاب ہو گئیں۔ امریکا کو احساس ہوا ہے کہ ان کا رویہ پاکستان کے ساتھ درست نہیں ہے۔
سرینڈر مودی کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم انسانوں کو تمہاری ظالم فوج کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا ،کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قائداعظم محمد علی جناح ؒنے قرار دیا تھا اور کشمیری مسلمانوں کے گرد لپٹی ہوئی غلامی کی زنجیروں کو کاٹنا ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے، کشمیر ، مریدکے اور بہاولپور پر سرینڈر مودی کے دہشت گردانہ حملوں کا نقد نتیجہ!پاکستان کے 24کروڑ عوام مولانا محمد مسعود ازہر کے ساتھ کھڑے نظر آرہے ہیں،جبکہ سرینڈر مودی پر چاروں طرف سے لعنتیں برس رہی ہیں اور وہ دہلی میں بھی تنہا،تنہا نظر آ رہا ہے اور ایسا اس وقت ہوتا ہے کہ جب انسان فر عون کی طرح معصوم بچوں کا بھی قاتل بن جائے ، میں پیارے زبیر طیب کو آج سے نہیں سالوں سے جانتا ہوں ،انتہائی شریف النفس ،محب وطن پاکستانی ،بڑوں کا احترام کرنے والا انتہا درجے کا مہمان نواز بڈھے خبیث سرینڈر مودی نے مسجد سبحان اللہ میں زبیر طیب کے تین معصوم بچوں کے جسموں کے چیتھڑے اڑا دیئے ہائے اللہ جی!گر ان معصوم شہیدوں کو بھی ہم دہشت گرد تسلیم کرلیں تو دھرتی پرہم سے بڑا ظالم کون ہو گا؟سر ینڈر مودی ہمارے ان معصوم شہیدوں کو دہشت گرد کہتا ہے، اس پھٹکارے ہوئے بڈھے قاتل خبیث کو کوئی بتائے کہ جب انتقام کی بجلیاں کڑکیں گی تو پھر پاک فوج کے شاہین ہوں یا مولانا مسعود ازہر کے کشمیری جانباز نریندر مودیوں کی گنگا جمنا برابر کر دیں گے۔
تم نے ہر دور میں انسانوں کے سر بوئے ہیں
اب زمیں خون اگلتی ہے تو شکوہ کیسا؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: مولانا محمد مسعود ازہر مسعود ازہر کے پاکستان کے معصوم بچوں

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار