عبد العلیم خان اور شعیب صدیقی اہم مقدمہ سے بری ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
عبد العلیم خان اور شعیب صدیقی اہم مقدمہ سے بری ہوگئے WhatsAppFacebookTwitter 0 16 May, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس) علیم خان اور شعیب صدیقی سمیت دیگر کیخلاف روڈا اہلکاروں پر تشدد کا مقدمہ، عدالت نے ایم این اے عبد العلیم خان اور شعیب صدیقی سمیت دیگر کو مقدمہ سے بری کر دیا۔
عدالت نے ملزمان کی بریت کی درخواست منظور کرنے کا حکم دیا، انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے فیصلہ سنایا، تھانہ چونگ نے عبد العلیم خان سمیت دیگر کیخلاف چالان عدالت میں جمع کر رکھا تھا، شعیب صدیقی سمیت دیگر حاضری کیلیے عدالت میں پیش ہوئے۔ عبد العلیم خان کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست دائر کی، شعیب صدیقی سمیت دیگر پر روڈا اہلکاروں پر تشدد کرنے کا الزام تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرصدر مملکت کی شہید اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف کے گھر آمد، اہلخانہ کے ساتھ اظہارِ تعزیت صدر مملکت کی شہید اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف کے گھر آمد، اہلخانہ کے ساتھ اظہارِ تعزیت پاکستان کی حمایت : بھارت نے ترکیہ کی ایئرپورٹ کمپنی پر پابندی لگا دی پی ٹی آئی رہنماوں کو اڈیالہ جیل میں قید بانی سے ملاقات کی اجازت نہیں مل سکی ججز تبادلہ اور سنیارٹی کیس،5ججز نے تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا پاکستان اور بھارت کے درمیان سیزفائر کی خلاف ورزی پورے خطے کیلئے خطرناک ہوگی،بلاول بھٹو کی وارننگ براہموس میزائلوں کے ڈپو کی تباہی کے پاکستانی موقف کی تصدیق ہوگئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خان اور شعیب صدیقی عبد العلیم خان
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔