یورپی پارلیمنٹ کے باہر پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کا بھارتی جارحیت کیخلاف مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
برسلز : یورپی پارلیمنٹ کے سامنے پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کی جانب سے ایک پُرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں افواجِ پاکستان سے یکجہتی اور بھارت کی حالیہ جارحیت کے خلاف بھرپور آواز بلند کی گئی۔
مظاہرے میں مراکش، الجزائر، ترکی، تیونس سمیت کئی اسلامی ممالک کے نوجوانوں نے بھی شرکت کی اور “پاکستان زندہ باد” اور “افواجِ پاکستان پائندہ باد” کے نعرے لگائے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ای یو پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ نے کہا: "پاکستان ہمیشہ امن کا حامی رہا ہے، لیکن ہماری خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔"
انہوں نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں حالیہ کامیاب آپریشنز پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ "25 کروڑ پاکستانی افواج کے ساتھ ہیں اور ہر قربانی کے لیے تیار ہیں۔"
مقررین نے عالمی برادری اور یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور جنوبی ایشیا میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
مظاہرہ ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔