محکمہ ہائی ویزپنجاب کا بڑا اسکینڈل منظرعام پر آگیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
راؤدلشاد:ہائی ویزڈیپارٹمنٹ پنجاب میں زائدادائیگیوں کابڑااسکینڈل، 2019-21کی آڈٹ رپورٹ نےمحکمہ ہائی ویزپنجاب کی کارکردگی کی قلعی کھول دی۔
غلط ریٹ کےاطلاق سےقومی خزانےکو40کروڑروپےکانقصان پہنچانےکاانکشاف ہوا، ہائی ویز ڈیپارٹمنٹ نےخلاف ضابطہ زائدادائیگیاں کیں، ہائی ویزڈیپارٹمنٹ نے22کیسزمیں غیرمنظورشدہ آئٹم کےتحت ادائیگی کی، تھرموپلاسٹک پینٹ کی ادائیگی منظور شدہ ریٹ کے بغیر کی گئی۔
پاکستان پیپلز پارٹی زون 169 کا پاک افواج کے حق میں مظاہرہ
محکمہ ہائی ویز نےایم آر ایس ریٹ نظر انداز کردیئے، فنانس ڈیپارٹمنٹ کی واضح ہدایات کی خلاف ورزی رپورٹ ہوئی، آڈٹ ڈیپارٹمنٹ نے2019کےمالی سال کےدوران زائدادائیگی کاانکشاف کیا۔
غیر منظور شدہ ریٹس پر بھاری ادائیگیاں کی گئیں، ایس ڈی اے سی اجلاس میں محکمہ نے ادائیگی کا دفاع کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔