ہانیہ عامر خود سے متعلق جعلی خبروں سے تنگ آگئیں، مداحوں سے فیکٹ چیک کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
پاکستان کی مقبول اداکارہ ہانیہ عامر نے سوشل میڈیا پر اپنے نام سے منسوب جھوٹی پوسٹس اور افواہوں پر پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے وضاحت دی ہے کہ ان کا ان باتوں سے کوئی تعلق نہیں۔
ہانیہ عامر نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ ان کا صرف ایک ہی انسٹاگرام اکاؤنٹ ہے اور دیگر تمام دعوے جھوٹ پر مبنی ہیں۔ پاک بھارت کشیدگی کے دوران ہانیہ سے منسوب ایک فیک پوسٹ وائرل ہوئی جس میں بھارتی وزیراعظم سے کشمیر میں ہونے والے حملے پر اپیل کی گئی تھی۔ ہانیہ نے اس پوسٹ کو جعلی قرار دیتے ہوئے سختی سے تردید کی تھی۔
اس کے بعد ایک اور دعویٰ سامنے آیا کہ وہ بھارتی مداحوں کے لیے الگ انسٹاگرام اکاؤنٹ چلا رہی ہیں، جسے بھی اداکارہ نے بے بنیاد قرار دیا اور مداحوں سے درخواست کی کہ وہ اس فیک اکاؤنٹ کو رپورٹ کریں۔
اب ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر نے اپنی ویڈیو کی تشہیر کے لیے ہانیہ کا نام استعمال کیا، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ اداکارہ نے ان سے کیمرہ زومنگ سے متعلق سوال کیا۔ ہانیہ نے یہ ویڈیو اپنی انسٹا اسٹوری پر شیئر کر کے واضح کیا کہ یہ بات بھی بے بنیاد ہے۔
اداکارہ نے مداحوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی خبر پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کریں اس طرح ان سے متعلق غلط معلومات سوشل میڈیا پر پھیلائی جاتی ہیں اور لوگ یقین کرلیتے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین نے ہانیہ کی حمایت کرتے ہوئے فیکٹ چیک کو کسی بھی خبر پر یقین کرلینے سے پہلے اہم قرار دیا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا
پڑھیں:
افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA
— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026
اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا
طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔
آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سیلاب نورستان