وزیرِداخلہ محسن نقوی کا یوم تشکر پر پاکستان رینجرز پنجاب ہیڈ کوارٹرز کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہداء کی درجات کی بلندی کیلئے دعا کی اور شہداء کی عظیم قربانیوں کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہداء کے خاندانوں سے ملاقات کی اور ان کے بلند حوصلے کو سراہا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیرِداخلہ محسن نقوی نے یوم تشکر پر پاکستان رینجرز پنجاب ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا، یادگارِ شہداء پر حاضری دی، پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی، شہداء کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی۔ ڈائریکٹر جنرل پاکستان رینجرز پنجاب میجر جنرل محمد عاطف بن اکرم نے وزیرِداخلہ محسن نقوی کا استقبال کیا۔ وزیر داخلہ نے یادگار شہداء پر حاضری دی۔ یادگار شہداء پر پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہداء کی درجات کی بلندی کیلئے دعا کی اور شہداء کی عظیم قربانیوں کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہداء کے خاندانوں سے ملاقات کی اور ان کے بلند حوصلے کو سراہا۔
وزیرداخلہ نے شہداء کے خاندانوں کے مسائل سنے اور ان کے حل کیلئے موقع پر ہی ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ شہداء کے خاندانوں کے مسائل حل کرنا ہماری ذمہ داری ہے، شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم شہداء کے خاندانوں کو سلیوٹ کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہداء کی قربانیوں کی کوئی نظیر نہیں ملتی، پوری قوم شہداء کے خاندانوں کیساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان رینجرز پنجاب کے افسران اور جوانوں نے جرات اور دلیری کی تاریخ لکھی ہے، قوم کو اپنے بہادر سپوتوں پر ناز ہے۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پاکستان رینجرز (پنجاب) کی پیشہ وارانہ کارکردگی اور عزم و حوصلہ کو سراہا۔ بعدازاں انہوں نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہداء پاکستان رینجرز پنجاب شہداء کے خاندانوں انہوں نے شہداء کی کی اور
پڑھیں:
محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ نئی دہلی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔ذرائع کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی مسائل کے حل کا واحد راستہ بامعنی سیاسی مذاکرات اور مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک متحد موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر جموں و کشمیر میں بھی ایک اجتماعی سیاسی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن جیسے پلیٹ فارمز کی طرز پر دوبارہ سیاسی اتحاد قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مودی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی سیاسی رابطے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندے ان کے سیاسی حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیگانگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں میں تعینات قابض بھارتی فورسز کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیری نظربندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔