پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری حجم 26 ارب روپے سے زائد، اسٹاک مارکیٹ کا مستقبل کیا ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا اختتام پرافٹ ٹیکنگ سے منفی زون سے ہوا، انڈیکس 312 پوائنٹس گر کر 1 لاکھ 19 ہزار 649 پوائنٹس کی حد پر بند ہوا۔ انڈیکس کی یومیہ بلند سطح 1لاکھ 20 ہزار 5 سو اور یومیہ کم ترین سطح 1 لاکھ 19 ہزار 541 پوائنٹس رہی۔ اسٹاک ایکسچینج میں 52 کروڑ 64 لاکھ سے زائد مالیت شیئرز کا کاروباری حجم 26 ارب روپے سے زائد رہا۔ سوال یہ ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کے آنے والے دن کیسے ہوں گے؟
یہ بھی پڑھیے پاک فوج نے بھارت کے خلاف شاندار آپریشن، حملوں کی تفصیلات جاری کردیں
سینئر صحافی محمد حمزہ گیلانی کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ آنے والے کاروبارے ہفتے میں پاکستان اسٹاک مارکیٹ نیا ریکارڈ بنا کر 1 لاکھ 20 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کر جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹاک مارکیٹ کا مستقبل اس لیے روشن دکھائی دیتا ہے کہ ٹیکسٹائل، سیمنٹ، فارما سمیت 10 بڑی صنعتوں کو سامنے رکھ کر جانچا جاتا ہے کہ ملک میں کتنی صنعتیں کام کر رہی ہیں اور کتنی بند ہو چکی ہیں۔ مجموعی طور پر 7 ماہ قبل پاکستان میں بڑی صنعتیں ریڈ زون میں تھیں لیکن جب سے بجلی کی قیمتیں کم ہوئی ہیں تب سے ان صنعتوں میں بہتری آنا شروع ہو چکی ہے۔ جب بڑی صنعتیں چلیں گی تو چھوٹی بھی چلنا شروع ہوں گی اور بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان ہے جس کا براہ راست اثر بڑی صنعتوں پر ہوگا۔
حمزہ گیلانی نے کہا کہ ٹیکسٹائل، آئی ٹی سیکٹر میں اضافہ ہوا۔ ترسیلات زر میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہے۔ بات کی جائے اسٹاک ایکسچینج کی تو 4 دن میں 15 ہزار پوائنٹس اضافہ ہوا۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے شئیرز اب بھی سستے ہیں۔ اس وقت بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان کی سستی مارکیٹ کی طرف آ رہا ہے، جبکہ بھارت سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے کیوں کہ انہیں سستی مارکیٹ مل گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے پاک بھارت کشیدگی کے دوران ایسا کیا ہوا کہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی آگئی؟
ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں آپ کو میڈ ان پاکستان ملے گا کیوں کہ سرمایہ اب پاکستان میں لگے گا۔ 10 کمپنیاں پاکستان میں تیل اور گیس کی تلاش کریں گی۔ لائسنس مل چکا ہے اور اس سے نکلنے والا گیس اور تیل پاکستان کو ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ مائنگ سیکٹر میں بھی کام شروع کردیا گیا ہے۔ اس وقت پاکستان کی مارکیٹ ڈیویلپمنٹ کی طرف جا رہی ہے، سونا مہنگا ہو چکا ہے اب لوگ اسٹاک یا پراپرٹی میں سرمایہ لگا رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے معاشی اعشاریے بہتر ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی دکھائی دے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان اسٹاک ایکسچینج.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان اسٹاک ایکسچینج پاکستان اسٹاک ایکسچینج اسٹاک ایکسچینج میں اسٹاک مارکیٹ نے والے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔