علیمہ خان کی بیرون ملک جانے کیلیے اجازت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
راولپنڈی:
علیمہ خان کی بیرون ملک روانگی کی اجازت کے لیے دائر درخواست پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کی بیرون ملک جانے کی اجازت کے لیے دائر درخواست پر سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔
دورانِ سماعت عدالت نے کہا کہ علیمہ خان کی بیرون ملک جانے کی اجازت سے متعلق درخواست پر فیصلہ تھوڑی دیر میں کردیں گے۔ اس موقع پر سرکاری پراسیکیوٹر کی جانب سے بیرون ملک جانے کی درخواست کی مخالفت کی گئی۔
پراسیکیوٹر کی جانب سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ فنڈ ریزنگ جاری ہے، علیمہ خان کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے، لہٰذا درخواست مسترد کی جائے۔
یاد رہے کہ علیمہ خان نے نمل یونیورسٹی اور شوکت خانم اسپتال کی فنڈ ریزنگ تقریبات میں شرکت کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ علیمہ خان ان کی چیف گیسٹ ہیں، مختصر مدت کےلیے برطانیہ جانے کی اجازت دی جائے۔
عمران خان کو جیل سے نکال کر رہیں گے، کوئی ہمیں روک نہیں سکتا، علیمہ خان
سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے عدالتوں کے چکر لگا رہی ہوں کہ بیرون ملک جانے کی اجازت ملے ۔ مجھ سے آپ کیوں خوفزدہ ہیں کہ مجھے سفر نہیں کرنے دے رہے ۔
انہوں نے کہا کہ میری ٹریولنگ کا تقابل ایان علی منی لانڈرر،خواجہ آصف کے اسکینڈل اور رمضان شوگر ملز والوں سے ہو رہا تھا۔ ہمارے وکیل بتا رہے تھے کہ ان میگا اسکینڈلز کے باوجود ملزمان کو ضمانت ملی تھی ۔ مجھ پر الزام ہے کہ میں نے بانی کا پیغام کارکنوں تک پہنچایا ۔ صرف پیغام رسانی کی وجہ سے مجھ پر مقدمات بن چکے ہیں۔
علیمہ خان نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں بریفنگ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی نے ہمیں نہیں بتایا ۔ ہم تو سب کے ساتھ خوشگوار موڈ میں ہوتے ہیں، ہم ان چیزوں پر اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔ بالکل ہم موروثی ہیں اور اپنے بھائی کے لیے کھڑے ہیں۔ کوئی ہمیں نہیں روک سکتا۔
انہوں نے کہا کہ بچے اسی لیے کھڑے ہیں کہ وہ موروثی ہیں۔ بانی پی ٹی آئی تنہا نہیں، خاندان ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم انہیں باہر نکال کر رہیں گے۔ ہمیں فرق نہیں پڑتا کون کیا کہہ رہا ہے ۔ ہم نے اپنے بھائی کو تحفظ دینا ہے،یہ ہماری ڈیوٹی ہے، اسے پورا کریں گے۔ہم اس جنگ،جہاد میں بھائی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بیرون ملک جانے کی اجازت علیمہ خان کی بیرون ملک درخواست پر نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
گل پلازہ آتشزدگی کیس کی انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر لانے کے لیے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے دائر درخواست مسترد ہونے کے بعد عوام کے حقِ معلومات اور جاری فوجداری تحقیقات کے درمیان توازن ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ سندھ انفارمیشن کمیشن نے قرار دیا ہے کہ چونکہ مقدمہ ابھی زیرِ تفتیش ہے، اس لیے اس مرحلے پر انکوائری رپورٹ جاری کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے اور تفتیشی افسر کی جانب سے چالان عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد متعلقہ دستاویزات عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن جائیں گی، جس کے بعد ان تک رسائی قانونی طریقۂ کار کے مطابق ممکن ہوگی۔ کمیشن کے مطابق جاری تحقیقات کے دوران معلومات کی فراہمی سے تفتیشی عمل متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تحقیقات بلا رکاوٹ اپنے منطقی انجام تک پہنچیں۔
ایم کیو ایم پاکستان نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ گل پلازہ سانحہ عوامی مفاد، شہریوں کے حقِ زندگی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی سے جڑا معاملہ ہے۔ پارٹی کے مطابق انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر آنے سے ذمہ داریوں کے تعین، شفافیت اور احتساب کے عمل کو تقویت ملے گی، جبکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی رہنمائی حاصل ہو سکے گی۔
سماعت کے دوران یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ کیس کی تفتیش کرنے والے افسران نے بتایا کہ انہیں انکوائری رپورٹ دستیاب نہیں تھی، جبکہ مختلف سرکاری اداروں نے مؤقف اختیار کیا کہ مطلوبہ ریکارڈ ان کے پاس موجود نہیں۔ اس صورتحال نے انکوائری، انتظامی کارروائی اور فوجداری تحقیقات کے باہمی تعلق پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
گل پلازہ کیس نے دراصل 2 اہم قانونی اصولوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف عوام کا مطالبہ ہے کہ ایسے بڑے سانحات سے متعلق حقائق منظرِ عام پر آنے چاہییں تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو اور ادارہ جاتی خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ دوسری جانب ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ اگر کسی مرحلے پر معلومات کی فراہمی سے تحقیقات یا عدالتی کارروائی متاثر ہونے کا خدشہ ہو تو تفتیش کو ترجیح دینا قانونی تقاضا ہے۔
حقِ معلومات سے متعلق قوانین کا مقصد سرکاری معاملات میں شفافیت کو فروغ دینا ہے، تاہم ان میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ حساس نوعیت کے معاملات میں معلومات کی فراہمی اس وقت تک مؤخر رکھی جا سکتی ہے، جب تک تحقیقات اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچ جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ گل پلازہ کیس میں اصل سوال صرف رپورٹ کی اشاعت کا نہیں بلکہ اس مناسب وقت کا بھی ہے، جب ایسی معلومات عوامی دسترس میں لائی جانی چاہییں۔
یہ بھی پڑھیے سانحہ گل پلازا: جوڈیشل کمیشن نے انکوائری رپورٹ مکمل کرکے سندھ حکومت کے حوالے کردی
یہ مقدمہ شہری سلامتی کے وسیع تر تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گل پلازہ آتشزدگی نے عمارتوں کے حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی کے نظام، تعمیراتی ضوابط پر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کی نگرانی سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔ ایسے میں انکوائری رپورٹ کو صرف ذمہ داریوں کے تعین کی دستاویز نہیں بلکہ مستقبل کی اصلاحات کے لیے ایک اہم حوالہ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔
اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ جاری تحقیقات کب مکمل ہوتی ہیں اور عدالتی کارروائی کس مرحلے تک پہنچتی ہے۔ اگر تحقیقات اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کے بعد انکوائری رپورٹ یا اس کے نتائج عوامی ریکارڈ کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے نہ صرف اس مقدمے سے متعلق کئی سوالات کے جواب مل سکیں گے بلکہ یہ بھی واضح ہوگا کہ اس سانحے سے حاصل ہونے والے اسباق کو ادارہ جاتی اصلاحات میں کس حد تک ڈھالا جا سکا۔
یوں گل پلازہ کیس محض ایک انکوائری رپورٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان میں شفافیت، مؤثر تحقیقات اور ادارہ جاتی احتساب کے درمیان توازن کا ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں