امریکہ کی جانب سے ممکنہ جوہری معاہدے کے بارے میں کوئی تحریری تجویز موصول نہیں ہوئی. عباس عراقچی
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
تہران(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 17 مئی ۔2025 )ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کو امریکہ کی جانب سے کسی بھی ممکنہ جوہری معاہدے کے بارے میں کوئی تحریری تجویز موصول نہیں ہوئی عراقچی نے ”ایکس“ پر ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران کو نہ براہ راست اور نہ بالواسطہ کسی قسم کی کوئی تحریری تجویز ملی ہے جو پیغامات ہم تک پہنچ رہے ہیں اور دنیا تک پہنچ رہے ہیں وہ اب بھی الجھاﺅ اور تضاد کا شکار ہیں.
(جاری ہے)
بیان میں انہوں نے کہاکہ اس کے باوجود ایران اپنے موقف میں پرعزم اور واضح ہے یعنی ہمارے حقوق کا احترام کریں، اپنی پابندیاں ہٹائیں، ہم معاہدے تک پہنچ جائیں گے . عراقچی نے زور دے کر کہا کہ ایران کسی بھی صورت اپنے اس جائز اور حاصل شدہ حق سے دست بردار نہیں ہوگا کہ وہ پر امن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی کرے یہ حق جوہری عدم پھیلاﺅکے معاہدے کے تحت تمام رکن ممالک کو حاصل ہے انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ باہمی احترام پر مبنی مکالمے کا خیر مقدم کرتے ہیں، اور ہر قسم کے دباویا مسلط کردہ شرائط کو مسترد کرتے ہیں .
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے کہا
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ