Express News:
2026-07-24@01:12:57 GMT

پی ایس ایل کی رونقیں بحال، بھارت بے حال

اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT

کراچی:

’’سر میچ کیوں نہیں ہو رہا‘‘ ایک کھلاڑی نے ٹیم منیجر سے پوچھا

’’وہ دراصل انڈیا نے اسٹیڈیم کے باہر ڈرون حملہ کیا تھا نہ اس لیے‘‘ اسے جواب ملا

’’ان کی ایسی کی تیسی، ہم ڈرنے والے نہیں ہیں، آپ حکام کو ہمارا  پیغام پہنچا دیں ہم کھیلنے کیلیے تیار ہیں‘‘ اس کھلاڑی نے جب یہ کہا تو دیگر نے بھی ’’ہاں ہاں ہم تیار ہیں کی آوازیں بلند کیں‘‘

یہ جذبہ دیکھ کر منیجر کی آنکھیں بھر آئیں اور انھوں نے جواب دیا ’’ہمارا کوئی مسئلہ نہیں لیکن غیرملکی کرکٹرز اور اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں شائقین کا بھی تو سوچنا ہے، بزدل دشمن کہیں کوئی ایسی حرکت نہ کر دے جس سے  نقصان ہو اسی لیے میچ ملتوی کیا گیا ہے‘‘

اس کے بعد آپ جانتے ہیں کہ کیا ہوا، پہلے لیگ دبئی لے جانے کا فیصلہ کیا گیا اور چند گھنٹوں بعد ملتوی کرنے پر اتفاق ہوا، جنگ بندی کے بعد ری شیڈول ہو کر اب میچز دوبارہ شروع ہو چکے ہیں، راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں ہی پی ایس ایل میں تعطل آیا اور وہیں سے دوبارہ آغاز ہوا، کتنا دلکش منظر تھا جب ہزاروں شائقین قومی پرچم لہرا کر میچ سے لطف اندوز ہورہے تھے، ملی نغموں کی دھن پران کا رقص دیکھ کر دنیا کو اندازہ ہو گیا کہ پاکستانی کھیلوں سے محبت کرنے والے امن پسند لوگ ہیں۔

لیکن اگر ہمیں چھیڑا جائے تو پھر ہم دشمن کو چھوڑتے بھی نہیں ہیں، پی سی بی نے ابتدائی میچز کو مسلح افواج کے نام کر کے اچھا قدم اٹھایا، انہی کی وجہ سے ہم بھارت کو داندان شکن جواب دینے میں کامیاب رہے جس نے دنیا بھر میں موجود پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ 

بھارت نے جان بوجھ کر راولپنڈی اسٹیڈیم میں ڈرون بھیجا تھا تاکہ ایک بار پھر کرکٹ کو نشانہ بنا کر پاکستان میں کھیلوں کو روکا جائے لیکن ہوا کیا خود اس کے ملک میں آئی پی ایل رک گئی،پلیئرز خوفزدہ ہو کر چلے گئے،کئی تو واپس بھی نہیں آئے، دیگر کو مستقبل میں معاہدے نہ کرنے جیسی دھمکیاں دے کر بلایا گیا۔ 

آپ بھارتی ذہنی پستی کا اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایسی ایسی جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں جن پر دنیا ہنس رہی ہے، فوٹو شاپ کر کے راولپنڈی اسٹیڈیم کی بھی تباہ شدہ تصویر چلائی گئی، پاکستان نے جہاز گرائے تو پوری دنیا کو ثبوت دیے، بھارت نے جعلی خبریں پھیلا کر خود کو مذاق کا نشانہ بنوایا۔

آسٹریلیا کے مچل اسٹارک نے بھارت جانے سے انکارکر دیا لیکن ان کے ہم وطن ڈیوڈ وارنر نے پاکستان آنے کا فیصلہ کرنے میں کوئی تاخیر نہیں کی، ہم نے انھیں کوئی دھمکی نہیں دی کہ نہیں آئے تو آئندہ نہیں بلائیں گے، پیسے کی وارنر کے پاس کیا کمی ہوگی،بطور کپتان کراچی کنگز کے ساتھ وہ جذباتی طور پر منسلک ہو چکے اور انھیں پاکستانی سیکیورٹی پر بھی پورا اعتماد ہے اسی لیے یہاں آ کر دوبارہ کھیل رہے ہیں۔ 

میری کئی غیر ملکی کرکٹرز سے بات چیت ہوتی رہتی ہے، ان میں سے بیشتر یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پاکستان میں جتنا خیال رکھا جاتا ہے ایسا کہیں اور نہیں ہوتا، چاہے لاہور قلندرز کے ثمین رانا اور عاطف رانا ہوں یا کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ندیم عمر، حسن ندیم عمر یا اعظم خان، پشاور زلمی کے جاوید آفریدی ہوں یا محمد اکرم، کراچی کنگز کے سلمان اقبال ہوں یا حیدر اظہر ، اسلام آباد یونائیٹڈ کے ریحان الحق ہوں یا ملتان سلطانز کے علی ترین یہ سب کھلاڑیوں کو شہزادوں کی طرح رکھتے ہیں۔ 

ہماری سیکیورٹی ایجنسیز انھیں سربراہ مملکت جیسی سیکیورٹی فراہم کرتی ہیں، اچھا کھیلیں یا خراب ہمیشہ سپورٹ کیا جاتا ہے، اسی لیے ایک بار جو پی ایس ایل میں شرکت کر لے اگلی مرتبہ اسے آنے کا فیصلہ کرنے میں تاخیر نہیں ہوتی، بھارت میں یقینی طور پر زیادہ پیسے ملتے ہیں ،لیکن یہاں اس کے ساتھ پیار اور دوستی بھی ملتی ہے، آپ سکندر رضا کی مثال دیکھ لیں وہ اپنے سخت ترین شیڈول سے وقت نکال کر پاکستان پہنچ چکے ہیں، ایسی کمٹمنٹ شاید ہی آپ کو کسی اور لیگ میں ملے۔ 

پہلے کہا جا رہا تھا کہ شاید بڑے نام نہ آ سکیں اب دیکھیں کئی اہم کرکٹرز پاکستان آ چکے ہیں، ہمیں اس موقع پر پی سی بی کو بھی داد دینی چاہیے، محسن نقوی بطور وزیر داخلہ بیحد مصروف رہے لیکن ساتھ کرکٹ معاملات کو بھی دیکھتے رہے، وہ بہترین آل راؤنڈر ہیں اور بیک وقت کئی محاذ کامیابی سے سنبھال سکتے ہیں، شاید اسی لیے ملک کی بیشتر طاقتور ترین شخصیتوں کی آنکھ کا تارا ہیں۔

انھوں نے بہت اچھے انداز سے پی ایس ایل کے معاملات کو دیکھا اور اہم فیصلے کیے،لیگ کے سی ای او سلمان نصیر نے بھی دن رات کی پروا کیے بغیر بہترین انداز میں فرائض نبھائے،میڈیا کے محاذ پر عامر میر، رفیع اللہ اور رضا راشد لگے رہے، جو کام مہینوں کے تھے وہ گھنٹوں میں ہوئے اور پاکستان  ایک بار پھر مسابقت سے بھرپور سپر لیگ شروع کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ 

بھارتی ذہنیت کا آپ اس بات سے اندازہ لگا لیں کہ مجھ جیسے ایک عام صحافی کا بھی ایکس (ٹویٹر) اکاؤنٹ اپنے ملک میں بند کر دیا، کئی دیگر پاکستانیوں کے ساتھ بھی ایسا کیا گیا، پی سی بی اور لاہور قلندرز تو پہلے ہی اس معطلی کی زد میں آ گئے تھے لیکن ہم پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا، اپنے ملک پر ایسے ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹ قربان۔ 

بھارتی سچ بتانے والی آوازیں روک کر اپنے اس میڈیا کو فروغ دے رہے ہیں جس نے حالیہ کشیدگی میں لاہور ’’پورٹ‘‘ پر حملہ کروا دیا، اس پورٹ کو آج تک لاہوریوں نے بھی نہیں دیکھا تھا، بھارتیوں نے تو کراچی کو بھی فتح کر لیا تھا، بس یہ لوگ اسی میں خوش رہیں، 2،4 فلمیں بنا کر اپنی قوم کو اور بے وقوف بنائیں، شکر ہے ہمارے  ملک میں ایسا نہیں، یہاں جنگ کے دوران بھی سچ بتایا گیا جس کی وجہ سے میڈیا پرعوام کا بھروسہ برقرار رہا۔

راولپنڈی اسٹیڈیم کی رونقیں دیکھ کر ہر پاکستانی خوشی سے سرشار ہے، ہمیں فتح کا جشن مناتے ہوئے ہوشیار بھی رہنا چاہیے، بھارت پاکستان کیلیے کھودے گڑھے میں خود گر چکا،اب اس کے اپنے لوگ اور غیرملکی میڈیا بھی حکومت پر سوال اٹھا رہے ہیں،آئندہ کوئی ایڈونچر کرتے وقت اسے ہزار بار سوچنا پڑے گا۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ایس ایل اسی لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع