وفاقی وزراء کی وزیراعلیٰ، گورنر سندھ سے ملاقاتیں، صنعتکاروں کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
کراچی (کامرس رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک فورم کی میزبانی کی جس کا مقصد وفاقی وزراء اور صنعتکاروں کی قیادت کو ایک جگہ جمع کرکے اس بات پر تبادلہ خیال کرنا تھا کہ کس طرح کیپٹیو پاور پلانٹس سے ڈسکوز کی طرف منتقلی کی جائے جو کہ کابینہ کے فیصلے کے مطابق لازمی قرار دی گئی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صنعتکاروں کی جانب سے پیش کی گئی تمام تجاویز اور تحفظات وزیر اعظم کو حتمی فیصلے کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم سے درخواست کی جائے گی کہ وہ محصولات کے نفاذ کے عبوری عرصے کا تعین کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دیں۔ وزیر اعلی نے واضح طور پر کہا کہ جب صنعتی یونٹس کو نیشنل گرڈ پر منتقل کیا جائے گا تو کیپٹیو پاور پلانٹس سے نکالی جانے والی گیس کو صوبے میں ہی استعمال میں لایا جانا چاہیے۔ یہ اجلاس صنعتکاروں اور وفاقی حکومت کے نمائندوں کے درمیان غور و خوض اور مشاورت کا ایک پلیٹ فارم ثابت ہوا تاکہ کیپٹیو پاور پلانٹس سے ڈسکوز کی جانب منتقلی کے لیے ایک ٹائم لائن طے کی جا سکے۔ یہ اجلاس وزیر اعلی ہائوس میں منعقد ہوا جس میں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری، وزیر اعظم کے معاون خصوصی رانا ثناء اللہ، ارکان قومی اسمبلی سید نوید قمر، اسد عالم، مرزا اختیار بیگ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وفاقی و صوبائی سیکریٹریز، ایم ڈی ایس ایس جی سی، سی ای او کراچی الیکٹرک مونس علوی، شہر کے ممتاز صنعتکاروں زبیر موتی والا، شبیر دیوان، جاوید بلوانی اور دیگر نے شرکت کی۔ وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کیپٹیو پاور پلانٹس سے نیشنل گرڈ یا ڈسکوز کی جانب منتقلی کو آسان بنایا جانا چاہیے جس کے لیے وفاقی حکومت کو صنعتکاروں کو اعتماد دلانا ہوگا، اس منتقلی کے لیے باہمی اتفاق سے ایک ٹائم لائن طے کی جانی ضروری ہے۔ اجلاس میں کیپٹیو پاور ٹیرف میں مجوزہ اضافے پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔ اجلاس میں صنعتکاروں نے اعتراضات اٹھائے کہ "ڈی-گرڈ (کیپٹیو پاور پلانٹس) لیوی آرڈیننس 2025" کے تحت صنعتوں پر اضافی چارجز عائد کیے جا رہے ہیں۔ گیس کمپنیاں پہلے ہی زائد چارجز وصول کر رہی ہیں اور اگر کیپٹیو پاور پلانٹس پر مزید ٹیکس عائد کیے گئے تو یہ صنعتی شعبے کے لیے ناقابل برداشت ہو جائے گا۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک کی معیشت ترقی کر رہی ہے اور اس میں تمام سٹیک ہولڈرز کی کوششیں شامل ہیں۔ وزیر اعظم نے ہمیں ہدایت دی ہے کہ ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جو صنعتی ترقی کو یقینی بنائیں۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی سندھ کے صنعتی مسائل کے حل کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ صنعتی ٹیرف میں پہلے ہی 30 فیصد کمی کی جا چکی ہے۔ تقسیم کار کمپنیاں اپنی کارکردگی بہتر بنا رہی ہیں اور 7,000 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا فزیبلٹی پلان بھی تیار ہے۔ اویس لغاری کا کہنا تھا کہ بالآخر صنعتکاروں کو خودکار بجلی پیداوار سے تقسیم کار کمپنیوں یا بجلی کی تقسیم کے نیٹ ورکس پر منتقل ہونا ہی ہوگا۔ اب تک 583 کیپٹیو پاور پلانٹس پہلے ہی گرڈ سے منسلک ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ افواج پاکستان نے بتا دیا ہے کہ ہمارا دفاع مضبوط ہے، اب ہم نے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنا ہے، امید ہے کہ آئندہ برس ہم آئی ایم ایف پروگرام سے نجات حاصل کرلیں گے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاکستان معاشی مشکلات سے نکل آیا ہے، آئندہ بجٹ میں عام آدمی کو خوشخبری ملے گی۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ کے فور منصوبہ دسمبر 2026 میں مکمل ہوجائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو گورنر ہائوس میں مسلم لیگ (ن) کے وفاقی وزراء اور ایم کیوایم پاکستان کے رہنمائوں کے درمیان ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کیا۔ وفاقی حکومت کے وفد کی قیادت وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کی۔ وفد میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری اور وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویزملک شامل تھے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے وفد کی قیادت پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کی۔ ایم کیو ایم پاکستان کے وفد میں ڈاکٹر فاروق ستار، نسرین جلیل، امین الحق، جاوید حنیف، حفیظ الدین ایڈووکیٹ اور فیصل سبزواری شامل تھے۔ ملاقات میں آئندہ مالی سال کی بجٹ سفارشات، تاجروں کے مسائل، کراچی حیدرآباد سمیت شہری علاقوں کے ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز پر بات چیت کی گئی۔ ملاقات میں کراچی کے ترقیاتی پیکج، کے فور اور منصوبوں پر بھی گفتگو ہوئی۔ ملاقات میں ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے بجٹ اور دیگر امور پر اپنی سفارشات ن لیگی وفد کو پیش کیں۔ وفاقی حکومت کے وفد نے ایم کیو ایم پاکستان کو مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔ اس ملاقات میں آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی پر مسلح افواج کے سربراہان، افسران اور جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کیپٹیو پاور پلانٹس سے ایم کیو ایم پاکستان ایم پاکستان کے وفاقی حکومت وفاقی وزیر ملاقات میں وزیر اعلی نے کہا کہ کے وفد پیش کی کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔