مولانا فضل الرحمٰن کی پی ٹی آئی کو کے پی حکومت کیخلاف عدم اعتماد کا حصہ نہ بننے کی یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
—فائل فوٹو
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پی ٹی آئی کو کے پی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا حصہ نہ بننے کی یقین دہانی کر دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے تحریک انصاف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی جماعت خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا حصہ نہیں بنے گی۔
واضح رہے کہ جیل میں قید 5 پی ٹی آئی رہنماؤں نے پارٹی کو درپیش بدترین بحران سے نکلنے کا واحد راستہ مذاکرات کو قرار دے دیا۔
انصار عباسیاسلام آباد :سابق وزیر خارجہ شاہ محمود.
شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز احمد چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ نے اپنے خط میں کہا ہے کہ مذاکرات میں بانی سمیت تمام گرفتار رہنماؤں کو شامل کیا جائے، مگر مذاکرات کے آغاز کی ذمے داری حکومت پر ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں نے مذاکرات کی بات بانی پی ٹی آئی کی مشاورت کے بغیر کہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔