’’سُرخ رُو عشق غیور از خونِ او‘‘سرخیل شہیدانِ وفا مرد حق آگاہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
شہادت، اﷲ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہے جو وہ اپنے فرماں بردار، مقربین خاص اور انعام یافتہ بندوں کے لیے مخصوص رکھتا ہے۔ رب العالمین نے قرآن مجید میں فرمایا، مفہوم: ’’اور جو لوگ راہ خدا میں قتل کردیے جائیں۔ خبردار! انہیں مُردہ مت کہنا، وہ زندہ ہیں لیکن تم اس کا شعور نہیں رکھتے۔‘‘ (البقرہ)
وہ دانائے سبلؐ، ختم الرسلؐ، مولائے کُلؐ جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغ وادی سینا
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر
وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یٰس، وہی طہٰ
رسول کریم حضور اکرم ﷺ کے ذکر کو اﷲ تعالی نے تاقیامت بلند کردیا ہے، وہیں آپؐ کے عظیم نواسے کی شہادت کو بھی امر کردیا کہ آپؐ نے فرمایا تھا: ’’حسینِ مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔‘‘
کربلا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بل کہ اس میں اصل اہمیت اس مقصد کی ہے جس کی خاطر امام حسینؓ نے یہ قربانی پیش کی۔ شہادت حسینؓ میں بے شمار راز ہائے زندگی اور اسباق پوشیدہ ہیں جیسا کہ دنیوی اقتدار، دولت و شہرت ابدی کام یابی کا ضامن نہیں ہے۔
یزید جو چند روزہ اقتدار کے فریب میں مبتلاء ہوکر تکبّر اور طاقت کے نشے میں مگن ہوکر، اپنی مکارانہ چالوں سے دین الٰہی سے بغاوت کرکے ایمان کے مقابلے میں اپنی ذاتی خواہشات کا سودا کر بیٹھا تھا اور خانوادہ رسول کریم ﷺ پر ظلم و جور کی انتہاء کردی گئی تھی لیکن آج امام عالی مقام حسینؓ کا نام زندہ جاوید ہے اور یزید کا نام ظلم، جور و ستم اور سفاکی کا متبادل بن گیا۔ امام عالی مقام حسینؓ کی محبّت صرف رسومات کو انجام دینے کا نام نہیں بل کہ جناب عالی مقامؓ کی سنت پر عمل کرنے کا نام حسینیت ہے۔ اس لیے اقبال نے کہا:
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیریؓ
کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دل گیری
یہ رسم شبیری باطل کے خلاف سینہ سپر ہونے اور کلمۂ حق بلند کرنے کا نام ہے۔ رسم شبیری کا تقاضا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی شریعت کو بہ ہر صورت نافذ اور اس پر اپنی زندگی میں ہر لمحہ عمل پیرا رہا جائے۔
امام عالی مقامؓ نے جس دین کو بچانے کے لیے قربانی دی وہ امن اور سلامتی کا دین ہے۔ جس ماہ محرم میں یہ قربانی دی گئی وہ حرمت کا مہینہ ہے، جس میں قتل و غارت گری اور فتنہ فساد ممنوع ہے، یہاں تک کہ اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی امن و آشتی اور امن و صلح کا حکم ہے۔ اور خدا نخواستہ کلمہ گو آپس میں ہی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوجائیں اور فتنہ و فساد برپا کریں۔ خدارا! بہ نام خدا و رسول کریم ﷺ بہ ہر صورت متحد رہیں۔
حق کائنات کا حُسن ہے، احسان ہے، خُوب صورتی ہے۔ حق روشنی ہے، مینارۂ نور ہے، صراط مستقیم ہے حق۔ انسانیت کا دوام، ترقی اور فلاح، حق سے وابستہ رہنے میں ہی ہے۔ حق ہی ہے جوہر خالص باقی تو بسں ننگ ہے۔
باطل بدصورتی ہے، طاغوت ہے، کراہت ہے، غلاظت ہے، اندھیر ہے، ظلم ہے۔ باطل حیلہ و دجلِ ابلیس ہے۔ گم راہی ہے، تذلیل انسانیت ہے باطل۔ مسترد و مردود ہے باطل۔
چراغ مصطفویؐ ہے حق اور شرار بولہبی ہے باطل۔
حق اور اس کے پیروکار سر جھکاتے ہیں فقط خالق کائنات کے رُو بہ رُو، سر تسلیم خم کرتے ہیں بس وحدہُ لا شریک کے احکامات پر۔ حق کے ندیم باصفا رب کی مخلوق کے حقوق کے محافظ اور زمینی خداؤں سے ہمیشہ برسر پیکار رہتے ہیں۔ حق کے دل دادہ اپنے لیے نہیں، رب کائنات کی مخلوق کے لیے جیتے ہیں۔ حق کی پیشانی خاک آلود ہوتی ہے بس رب کائنات کی بارگاہ میں۔
باطل اور اس کے حواری اپنے نفس کے اسیر اور ہر اک کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔ باطل خاک آلود و خوار رہتا ہے نفس کی شررگاہ میں۔ باطل، خلق خدا کے حقوق کو غصب کرتا ہے۔ باطل رب کے باغیوں کا گروہ ہوتا ہے، جن کا امام راندۂ درگار ابلیس مایوس ہے۔ باطل رب کی مخلوق کے لیے آزار ہوتا ہے۔ باطل رب کے آزاد بندوں کو غلامی کی زنجیریں پہناتا ہے۔ روز ازل سے باطل کے رُو بہ رُو حق ہمیشہ برسر پیکار رہا ہے اور ابد تک رہے گا، کہ حق ہی کے لیے ہے سرخ روئی اور سربلندی، فقط حق کا نصیبا ہے سر بلندی اور سرخ روئی۔ وہ حق، حق ہی نہیں، جس کے مقابل باطل نہ آئے کہ دجل و فریب باطل کی موت ہے، حق فقط حق۔
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفویؐ سے شرار بولہبی
کربلا، حق و باطل میں امتیاز کا نام ہے۔ کربلا، سچائی اور کذب میں تفریق کا نام ہے۔ کربلا، انسانیت کی پناہ کا نام ہے۔ کربلا، آمریت کے خلاف جمہور کی آواز ہے۔ کربلا، غاصبوں اور حقوق انسانی کے نغمہ خوانوں کے درمیان حد فاصل ہے۔ کربلا، حق و باطل کی ازلی کش مکش کا نام ہے۔ کردار حسینؓ ہی دراصل بقائے انسانیت ہے۔ حسینؓ، مظلوم کی سر پرستی کا نام ہے۔ حسینؓ اسلام کی حقانیت اور سربلندی کا نام ہے۔ حسینؓ قافلۂ عشاق کا امام ہے۔ حسینؓ بقائے دوام ہے۔ حسینؓ حقوق انسانی کے جری علم بردار کا نام ہے۔ حسینؓ آمریت کے مقابل جمہور کا ترجمان اور اس معرکے میں مظلوم انسانیت کا سپاہ سالار ہے۔ حسینؓ شجیع نے اپنے اور اپنے چہیتوں کے خون سے اسلام کے شجر طیّب کی آب یاری کی اور ثابت کردیا کہ نظریہ اور دین اہم ہوتا ہے۔
جواں مردوں کا امتحان ہمیشہ میدان کارزار میں ہُوا کرتا ہے اور جواںمرد ہی سرخ رُو اور سربلند رہتے ہیں اور ایسے سربلند کہ ان سے زیادہ سربلند کوئی اور نہیں ہوتا۔ ایسے سربلند کہ گردن کٹوا کے بھی جن کے سر بلند ہی رہتے ہیں۔ اور جب وہ راہ حق میں قتل کر دیے جائیں تو خالق کُل کائنات خبردار کرتا ہے کہ کوئی انہیں مردہ مت جانے، کوئی اپنے شعور کے دھوکے میں نہ آئے، انہیں ہی دوام ہے جو راہ خدا میں جان کا نذرانہ پیش کردیں۔ حسینؓ اسی قافلے کا امام سربلند و سرخ رُو ہے اور رہتی دنیا تک رہے گا۔ حسینؓ اپنی مثال آپ ہے، کہاں سے لائے گی دنیا حسینؓ جیسا کوئی۔
کربلا میں بہ ظاہر تو باطل مردود کو فتح حاصل ہوئی، شیرخوار اور معصوم بچوں، عفت مآب خواتین، باکردار جوانوں اور افضل مردان حق کے ساتھ ظلم و ستم ہوا اور سب ہی جانتے ہیں کیسا ظلم، ایسا ظلم کہ خود ظلم بھی شرم سار اور رسوا ہوا۔ مگر رازدارانِ حقیقت اور صاحبانِ بصیرت خوب جانتے ہیں اور اس کا برملا اعتراف کرتے ہیں کہ شکست کس کا مقدر بنی اور بدکرداری کی کالک کس کے حصے میں آئی۔ کون نہیں جانتا یہ سچائی، کہ حسینؓ اور حسینؓ کے انصار ہی سربلند اور سرخ رُو رہے۔ یزید بہ ظاہر جیت کر بھی ایسا ہارا کہ رہتی دنیا تک ہار کی بدترین اور عبرت ناک مثال بن گیا اور بنا رہے گا۔
ہر انسان پیدائش کے بعد طبعی عمر گزار کر اپنے وجود کے خاک ہوجانے کا شعور رکھتا ہے۔ ہوش سنبھالنے کے بعد انسان کو زندگی اور موت کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملتا ہے اور پھر وقت کے ساتھ عقل اور حاصل ہونے والے دنیاوی علم کی بنیاد اور مشاہدے پر وہ اس بات کا یقین کرلیتا ہے کہ دنیا میں ہر جنم لینے والے کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ تاہم قرآن حکیم اپنے ماننے والوں کو ایک اور روشن ترین اور ابدیت کی طرف جانے والے راستے کا ادراک کرواتا اور اس کا فہم عطا کرتا ہے۔ قرآن عظیم کے بتائے ہوئے اس راستے میں وہ زندگی پوشیدہ ہے جو بقا میں قیام کرتی ہے، جسے فنا نہیں، جو نیست سے ہم آغوش نہیں ہوتی اور جو کبھی معدوم نہیں ہوتی۔ اس ابدیت کے راستے پر بس وہی مسافران حق سفر کرتے ہیں جو خالقِ کائنات کی وحدانیت اور اس کے حبیب کریمؐ پر ایمان لاتے ہیں۔ حسینؓ کے نانا جناب رسول اﷲ ﷺ جو شہر علم ہیں، حسینؓ کے والد گرامی جناب علیؓ جنہیں شہر علم کے باب علم کا شرف عظیم حاصل ہے، وہ حسینؓ ہی تو جانتے ہیں کہ علم کیا ہے، حقیقت کیا ہے، بصیرت کسے کہتے ہیں، بصارت کیا ہوتی ہے، کائنات میں کیا راز پوشیدہ ہے، ہاں! حسینؓ جانتے ہیں۔
قرآن حکیم ہمیں بتاتا ہے، مفہوم: ’’جو اﷲ کی راہ میں قتل کر دیے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، وہ زندہ ہیں اور اپنے رب سے رزق پا رہے ہیں، مگر تمہیں اس کا شعور نہیں۔‘‘
یہ کیسی زندگی ہے، جس سے ہمیں کتاب اﷲ، جو ہر شک اور شبہے سے پاک و منزہ ہے، آگاہ کر رہی ہے؟ یہ کون سا رتبہ و مقام ہے جس کا ذکر قرآن حکیم فرقان مجید نے کیا ہے؟ اس کا جواب بھی قرآن سے ہی ہمیں ملا ہے۔ یہ وہ اعزاز ہے جو اﷲ رب العزت خلوصِ نیت کے ساتھ اپنی راہ میں جان قربان کردینے والوں کو عطا فرماتا ہے۔ مسلمان اس رتبے کے حامل کو شہید اور شہادت کے نام سے جانتے ہیں۔ حقیقی اور ابدی زندگی کی طرف جاتا ہوا یہ راستہ مومن کا انعام ہے۔ قربانی اور ایثار کا مظاہرہ کرنے والوں کے لیے رب کائنات کی رضا کا عظیم سندیسہ، سند اور جزا ہے۔
شہادت دراصل باطل کی نفی کرنے اور راہ حق میں اپنی جان قربان کردینے کا نام ہے۔ اسلام ایسا دین ہے جس میں عدل، انصاف اور احسان کو بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ ہمارا دین اسلام، جو رب کائنات کا پسندیدہ دین ہے، ہمیں بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کرنے، مجبور اور محکوم کو ظالم کے مظالم سے نجات دلانے اور حق بات کہنے میں جرات کا مظاہرہ کرنے کا درس دیتا ہے، اور اعلائے کلمہ الحق کی راہ میں زندگی بھی نچھاور کردینا حق کے داعیوں کا شیوہ ہے، جس کا انعام شہادت کے مرتبے اور مقام کی صورت میں ملتا ہے۔ دنیائے اسلام میں قربانی اور ایثار کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ کہیں مسلمانوں نے اﷲ کی راہ میں مال و دولت اور دنیاوی آسائشوں کو قربان کردیا تو کہیں ظالمین اور جبر کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔ یہ مہینہ محرم الحرام سن ہجری کا پہلا ماہ مکرم جو ہمیں راہ حق پر ڈٹ جانے اور ظالم کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنے کا درس دیتا ہے۔
اس ماہ میں میدان کربلا میں حق و انصاف کے علم برداروں کی طرف سے دی جانے والی عظیم قربانی مسلمانوں کے لیے قیامت تک مثال بن گئی۔ محرم الحرام میں نواسۂ رسول حضرت امام عالی مقام حسینؓ نے یزید اور یزیدیت کو شکست فاش دی۔ اپنے اہل خانہ اور چند جاں نثاروں کے ساتھ آپ نے اپنی اور اپنے چہیتوں کی جان کا نذرانہ اپنے رب کی بارگاہ عظیم میں پیش کرکے اسلام کو زندہ و جاوید کردیا، ہر ظلم کو خندہ پیشانی اور پامردی سے برداشت کیا، لیکن حسینؓ شجیع نے ظلم کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی۔ حسینؓ جری نے اسلام کی حقیقی تعلیمات کا درس میدان کار زار کرب و بلا میں بہ نوک سناں بھی پیش کیا۔ حسینؓ ذی وقار نے آمریت کے خلاف اپنے خون مطہّر سے وہ تاریخ رقم کردی جس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔
کرب و بلا کے میدان میں باطل نے بہ ظاہر تو مٹھی بھر جان نثاران حسینؓ کو زیر کرلیا ، مگر رازدارانِ حقیقت اور صاحبانِ بصیرت جانتے ہیں کہ شکست کسے ہوئی اور رہتی دنیا تک کون رسوا ہوا۔ یزید رسوائی کا نشان عبرت اور حسینؓ نشان عزم و استقلال اور مظلوموں کی زندگی بن گئے۔
ایک بار پھر ہم کرب و بلا کے معرکے میں امام عالی مقام حسینؓ شجیع و جری اور ان کے وفا شعار ساتھیوں کی شہادت عظمیٰ کو یاد کررہے ہیں اور تاقیامت یاد کرتے رہیں گے۔ قرآن کی مذکورہ بالا آیت ہمیں بتاتی ہے کہ شہید کبھی نہیں مرتے۔ ہر مسلمان اس بات پر کامل یقین رکھتا ہے کہ اﷲ اپنے بندوں سے کیے گئے وعدے ضرور پورے کرتا ہے اور یہی یقین ہمیں اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ ہم ظلم کا مقابلہ کریں اور راہ حق میں اپنے مال اور جان کی قربانی کی اگر ضرورت پڑجائے تو اس سے بھی دریغ نہیں کریں۔ دنیا میں ہمیشہ ہی حق اور باطل معرکہ آرا رہے ہیں اور رہیں گے اور کردار حسینؓ ہر دور میں قافلۂ عشاق کی نمائندگی اور راہ نمائی کرتا رہے گا۔
شہادت حسینؓ شریعت محمدیؐ کی سربلندی کے لیے قربانی دینے کا نام ہے۔ حسینیت حق کی آواز بلند کرنے کا نام ہے۔ حسینیت عالم کے لیے پیغام امن ہے۔ شہادت امام حسینؓ، ہم سب سے فتنہ، فساد، تفریق و انتشار کی نابودی اور اتحاد کی جدوجہد کا تقاضا کرتی ہے۔ عصر حاضر میں پیغام حسینؓ کو اجاگر کرتے ہوئے اس کی روح کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔
رضائے رب میں لٹایا ہے گھر کا گھر جس نے
وہ جانِ بنت پیغمبرؐ ہے، دم حسینؓ کا ہے
بھلا سکے گا نہ تاحشر جس کو سارا جہاں
وہ ذات ابن علیؓ ہے، وہ غم حسینؓ کا
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امام عالی مقام حسین رب کائنات کائنات کی جانتے ہیں کا نام ہے کرتا ہے ہیں اور راہ میں میں قتل کے ساتھ کرنے کا کے خلاف راہ حق کے لیے رہے گا اور اس ہے اور
پڑھیں:
ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
بھارت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے ہیں۔ کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر، اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا، یوراج سنگھ، شیکھر دھون، محمد کیف، میرابائی چانو، ونیش پھوگاٹ اور منو بھاکر نے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی نظامِ تعلیم کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مؤثر اصلاحات کی اپیل کی ہے۔
سچن ٹنڈولکر نے اپنے مرحوم والد جو پیشے کے اعتبار سے پروفیسر تھے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ناکامی قابلِ قبول ہے لیکن دھوکہ دہی نہیں۔ کبھی بھی شارٹ کٹ اختیار نہ کریں‘۔
یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
انہوں نے مزید کہا کہ بطور معاشرہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسی اقدار کو فروغ دیں جہاں محنت کو نتائج پر ترجیح دی جائے۔ انہوں نے لکھا اگر معاشرہ محنت کے بجائے صرف نتائج کو اہمیت دے گا تو لوگ میرٹ کے بجائے شارٹ کٹس تلاش کریں گے۔ آج اگر طلبہ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو یہ قابلِ فہم ہے۔ ہمیں مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں انہیں دوبارہ ایسا محسوس نہ ہو۔
سچن نے کہا کہ بھارت کے نوجوان خوابوں اور توانائی سے بھرپور ہیں اور والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، منتظمین اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں محنت کا صلہ ملے، دیانت داری کی حوصلہ افزائی ہو اور میرٹ کامیاب ہو۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں مودی حکومت کے خلاف بڑھتا احتجاج، سلمان خان بھی شامل ہوگئے
اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔
انہوں نے لکھا کہ ’میں نے خود کو کبھی سیاسی شخصیت نہیں سمجھا لیکن میرا یقین ہے کہ کچھ معاملات ہم سب کے ہیں، چاہے ہمارے نظریات کچھ بھی ہوں۔ تعلیم انہی میں سے ایک ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ کسی قوم کی اصل طاقت صرف اس کی معیشت یا کامیابیوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو کتنے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش
ان کے مطابق ایسا نظامِ تعلیم جو اعتماد پیدا کرے، میرٹ کو فروغ دے اور تجسس کی حوصلہ افزائی کرے کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ ہمیں مل کر اپنے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے امید، مواقع اور جدت کا ذریعہ بن سکے۔
اولمپک سلور میڈلسٹ میرابائی چانو نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سی اچھی چیزیں بھی ہو رہی ہیں لیکن کچھ افسوسناک واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جب ہم ایسے واقعات دیکھتے یا سنتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ میں نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے بارے میں سنا ہے میرا خیال ہے کہ وہ درست کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج میں تقسیم، اہلکار مودی حکومت کے خلاف احتجاج کا حصہ بن گئے
سابق بھارتی آل راؤنڈر یوراج سنگھ نے اپنے پیغام میں کہا ہر بچے، ہر طالب علم، ہر عورت اور ہر مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پُرامن ماحول میں تعلیم حاصل کرے، محفوظ رہے اور اپنے خواب پورے کرے۔ آپ کی فلاح و بہبود ہی روشن بھارت کی بنیاد ہے۔ بات چیت کے ذریعے ہم بھارت کے مستقبل کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کر سکتے ہیں۔
سابق اوپنر شکھر دھون نے بھی طلبہ کے جذبات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خوابوں کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن مشکل وقت میں صبر اور ملک کے اداروں اور حکومت پر اعتماد برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ میرا یقین ہے کہ ہر مسئلے کا حل صبر سے نکلتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید
سابق کرکٹر محمد کیف نے کہا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ تعلیم کے نظام میں خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس طاقت استعمال کر رہی ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر طلبہ پر لاٹھیاں برسنا بند ہونا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ اس مسئلے کا جلد حل نکلے گا۔
ریسلر ونیش پھوگاٹ نے احتجاجی مقام پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر کی تصاویر نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا۔ انہوں نے کہا جب ملک کے طلبہ اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور اپنے خوابوں کے لیے سڑکوں پر نکلے تو انہیں عزت کے بجائے خوف اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار ’ستلج ‘ کے بعد’دی انڈیا اسٹوری‘ سے بھی ڈرنے لگی، سبب کیا نکلا؟
انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ ہر حال میں پرامن رہیں اور کہا آپ کی سب سے بڑی طاقت آپ کا صبر، نظم و ضبط اور پُرامن جدوجہد ہے۔ پیچھے مت ہٹیں، تاریخ ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے۔
سب سے پہلے آواز بلند کرنے والے کھلاڑیوں میں اولمپک شوٹر منو بھاکر بھی شامل تھیں جنہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سیاست سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔ میں خود ایک طالبہ رہی ہوں اور ہم سب کبھی نہ کبھی طالب علم رہے ہیں۔ ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور زندگی میں مساوی مواقع ملنے چاہییں۔ یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ بنیادی حقوق ہیں۔ جن طلبہ اور بچوں نے اپنی جانیں گنوائیں، وہی اس ملک کا مستقبل تھے۔ ان کے خواب، ان کی صلاحیتیں اور ان کا مستقبل محفوظ ہونا چاہیے تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا انڈیا احتجاج بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر کاکروچ جنتا پارٹی مودی