جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود حکومت کا اضافہ بدترین ظلم ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق رکن قومی اسمبلی اور جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی کے جنرل سیکرٹری صابرحسین اعوان نے عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مسلسل گرنے کے باوجود حکومت پاکستان کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ غریب عوام کی جیبوں پر بدترین ڈاکہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اپنی عیاشیوں کے لئے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگرعالمی مالیاتی اداروں سے شرمناک اور ذلت آمیز شرائط پر قرضے لیکر ہڑپ کرجاتی ہے اور پھر یہی قرضے سود سمیت واپس کرنے کے لئے ہر پندرہ روز بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، بجلی، گیس اور دیگر یوٹیلٹی بلز میں اضافے کی صورت میں غریب عوام سے وصول کئے جاتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے صوبائی ہیڈکوارٹر مرکز اسلامی پشاور میں جماعت اسلامی کے ضلعی امراء اور ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ بڑے اور بلاجواز اضافے سے آنے والے دنوں میں مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہوگی کیونکہ فیول مہنگا ہونے سے روزمرہ استعمال کی اشیائے خوردونوش کی نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جائیں گے اور اس کا لازمی نتیجہ قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نکلے گا۔

انہوں نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک سمیت دیگر عالمی مالیاتی ادارے حکومت پاکستان کو ایسے شرمناک شرائط پر قرضے دے رہے ہیں کہ حکومت قرضوں کی واپسی کے لئے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے علاوہ ہر ماہ بجلی اور گیس کے فی یونٹ نرخوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ مہینہ میں دو بار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ آج ایران اسرائیل جنگ کے بعد عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ترین سطح پر ہونے کے باوجود حکومت اس کا فائدہ عوام کو منتقل نہیں کررہی جبکہ ستم ظریفی کا مقام ہے کہ موجودہ وزیراعظم جب اپوزیشن میں تھے تو ان کا مطالبہ تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کم از کم 70 روپے فی لیٹر کمی کی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی مارکیٹ کے مطابق کمی کرکے عوام کو فوری طور پر ریلیف فراہم کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جماعت اسلامی عالمی مارکیٹ

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان