پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضاٖفہ قبول نہیں ، واپس لیا جائے آفاق احمد
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
اسٹاک ایکسچینج کی بلندی سے سروکار نہیں ۔ بجلی ، گیس،پیٹرول سمیت سب کچھ مہنگا ہے
حکومت عوام کو ریلیف دے ، قیمتیںبڑھانے کی بجائے پیٹرولیم لیوی کم کرے،بیان
مہاجر قومی موومنٹ (پاکستان) کے چیئرمین آفاق احمد نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 8سے 11روپے تک کا اضافہ مہنگائی کے بدترین طوفان کا سبب بنے گا جسے برداشت کرنا غریب عوام کیلئے ممکن نہیں ، حکومت عوام پر رحم کھائے اور حالیہ اضافہ واپس لیا جائے۔آفاق احمد نے کہا کہ معاشی اشاریوں میں بہتری صرف حکومتی یکارڈ میں ہے ، درحقیقت بجلی ، گیس اور پیٹرول سمیت سب کچھ مسلسل مہنگا ہورہا ہے جس کا براہ راست اثر عوام و صنعتوں دونوں پر پڑ رہا ہے ۔آفاق احمد نے کہا کہ اگر بجلی کی بلوں سے ٹیلیویژن ٹیکس ختم کرکے پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے تو یہ عوام کو بیوقوف بنانے کے سوا کچھ نہیں کہلائے گا جسکا براہ راست اثر کراچی کی معیشت پر بھی پڑے گا کیونکہ 12سے 16گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے صنعتیں گیس اور پیٹرول جنریٹر استعمال کرنے پر مجبور ہیں ، حالیہ اضافہ سے پیداواری لاگت بڑھے گی جو تباہی کے دہانے پر کھڑی صنعتوںکی بندش کا سبب بنے گی جس سے بیروزگاری کا طوفان آجائے گا۔آفاق احمد نے کہا کہ عوام کواسٹاک ایکسچینج کی بلندی سے کوئی سروکار نہیں، عوام کابراہ راست تعلق بجلی، گیس اور پیٹرول سے ہے جن کی قیمتیں پہنچ سے باہر ہوچکی ہیں ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی بجائے پیٹرولیم لیوی میں کمی کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ا فاق احمد نے اور پیٹرول کہا کہ
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔