بچوں کوکتابیں کیسے پڑھائی جائیں؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
گزشتہ روز ایک صاحب کا مجھے واٹس ایپ میسج آیا۔ ان سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی، مگر فیس بک اور واٹس ایپ کا رابطہ چلا آرہا ہے۔ انہوں نے پہلے میسج کیا کہ آپ کی مدد درکار ہے۔ پھر ایک طویل ٹیکسٹ میسج آیا جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ الیکٹریکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی ہیں جبکہ کمپیوٹرانجینئرنگ، میتھ اور الیکٹریکل انجینئرنگ میں تین ماسٹرز بھی کرر کھے ہیں۔ پاکستان میں اور پاکستان سے باہر مختلف یونیورسٹیوں میں پڑھاتے رہے ہیں۔ آج کل شاید پاکستان سے باہر ہیں، مگر انہوں نے اپنے ملک کے لیے کچھ نہ کچھ کنٹری بیوٹ کرنے کا عہد کر رکھا ہے۔ انہوں نے سوچا کہ بچوں کو کتابیں پڑھانی چاہییں کیونکہ بے شمار ریسرچ پیپرز آ چکے ہیں کہ اسکرین ٹائم اور اسکرین لرننگ سے بچوں کا فوکس، ارتکاز کا وقت اوریادداشت بہت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ایک ہی طریقہ ہے کہ انہیں کتابوں کی طرف لایا جائے اور اس کا آغازکہانیوں کی کتب ہی سے ہوسکتا ہے جو انہیں اپنے ساتھ جوڑ سکیں۔ جب وہ کہانیاں پڑھنے لگیں گے توپھرنان فکشن بھی پڑھیں گے۔ سیلف لرننگ بھی کتابوں کے ذریعے ہوگی اور علمی، تحقیقی کتابیں بھی پڑھ ہی لیں گے۔ ان کی سوچنے کی عادت بھی ڈویلپ ہوجائے گی۔
ان صاحب کے مطابق وہ پاکستان کے مختلف دورافتادہ علاقوں میں چلڈرن لائبریریاں بنانا چاہ رہے ہیں۔ میانوالی ضلع میں نو جبکہ آزاد کشمیر میں ایک لائبریری بنا چکے ہیں۔۔ میانوالی میں ایک مسجد لائبریری، تلہ گنگ کے ایک گاوں مییں چلڈرن لائبریری جبکہ ایک معروف یونیورسٹی کے کیفے میں کتابوں کا گوشہ بنا رہے ہیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ میانوالی اور اس طرف کے علاقوں کے اسکولوں میں لائبریریاں بنائیں۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ میتھ، سائنس، آئی ٹی، ٹیکنالوجی وغیرہ میں اچھی کتابیں تیار کی جائیں۔ بعض وہ خود لکھنا چاہتے ہیں، کچھ کے تراجم اور چند ایک انگریزی کی کتاب ری پبلش کریں گے۔انہوں نے تاسف سے لکھا، ’کوئی ہم سے پوچھے کہ اردو میں بچوں کے کلاسیک ناول کون سے ہیں؟ تو ہم کیا جواب دیں گے؟ ہرزبان میں بچوں کے لیے بڑے ادب کی تلخیص یا مختصر ایڈیشن (Abridged Edition) شائع کیے جاتے ہیں۔ ہم اردو کے کون سے ناول بچوں کے لیے تلخیص یا مختصر ایڈیشن کی صورت میں پیش کر سکتے ہیں؟‘
یہ بھی پڑھیں: صرف طاقت ہی دیرپا امن قائم کر سکتی ہے
مجھے ان کی بات پڑھ کر یاد آیا کہ ایک بار پرانی کتابوں کی دکان سے برطانیہ کے اسکولوں کے سکستھ گریڈ کے لیے شائع کردہ شیکسپیئرکے ایک ڈرامے کی کتاب دیکھی تھی جس پر لکھا تھا کہ اتنے سو الفاظ کے ذخیرہ الفاظ کے لیے یہ ہے۔ پھر معلوم ہوا کہ برطانیہ میں مختلف کلاسز کے بچوں کے لیے شیکسپیئر کے شاہکار ڈرامے ان کی ذہنی سطح اور ان کے ذخیر ہ الفاظ کے مطابق لکھے جاتے ہیں جیسے سیون گریڈ کے لیے الگ شیکسپیئر مل جائے گا اور او لیول، اے لیول کے لیے الگ سطح پر یہ کتابیں ہوں گی۔
اس ٹیکسٹ میسج میں ان صاحب نے 4،5 نکات کے حوالے سے مدد کی درخواست کی۔ لکھتے ہیں: ’ہم چلڈرن لائبریریز کے لیے بچوں کی کتب لینے کی کوشش کر رہے ہیں، اس حوالے سے پبلشرز کو ترغیب دی جائے کہ وہ اس کام کی اہمیت کو سمجھیں اور تعاون کریں۔ جبکہ بچوں کے لیے اچھے ادب کی تخلیق کی جائے اور اس مقصد کے لیے ایک نیٹ ورک بنایا جائے، معیاری ادب لکھا جائے اور اسے شائع کیا جائے۔ بچوں کے لیے میگزین گنے چنے رہ گئے ہیں، ایسے رسالے یا میگزین بھی چھپنے چاہییں جو بچوں کے لیے اچھا، بھرپور، متنوع مواد شائع کریں۔ سب سے اہم یہ کہ بچوں اورپھر میٹرک، انٹر کی سطح کے طلبہ کے لیے سائنسی لٹریچر تخلیق ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ سائنس میگزین کا آئیڈیا کچھ لوگوں سے ڈسکس کیا، مگر اس جانب لوگ متوجہ نہیں ہو رہے۔ ریڈنگز، بک کارنر جہلم والے چاہیں تو اس حوالے سے لیڈ لے سکتے ہیں۔ آخری نکتہ یہ تھا کہ لائبریریز کے علاوہ عوامی مقامات، کیفے، کینٹین، ہسپتالوں، مساجد، مالز میں چھوٹے چھوٹے بک کارنر بنائے جائیں۔ انہوں نے کتاب دوست کے حوالے سے فیس بک پیج بھی بنا رکھا ہے، اگرچہ اس پر ابھی فالورز نہ ہونے کے برابر ہیں۔
سچی بات تو یہ ہے کہ میں ان تمام باتوں کا بھرپور ہم خیال ہوں۔ یہ وہ کام ہے جو ہونا چاہیے۔ کتابوں کی طرف رجحان کم ہوتا جا رہا ہے۔ ایسا نہیں کہ کتاب نہیں بک رہی۔ اچھی کتابیں چھپ بھی رہی ہیں اور ان کے ایڈیشنز بھی فروخت ہوجاتے ہیں، مگر ان کی تعداد کم ہے اور ان کے زیادہ ترقارئین اب 30 پلس ہوچکے ہیں۔ 18 برس سے نیچے عمر کے بچوں کی غالب اکثریت کتابوں سے بہت دور ہے۔ یہ سب سے خطرناک بات ہے۔اگر نئی نسل کوکتابیں نہیں پڑھائیں گے تو پھر چند ہی برسوں میں ایک بڑا خلا پیدا ہوجائے گا۔ سب سے اہم یہ کہ ہم نے کہانیاں، کتابیں پڑھ رکھی ہیں اور اگر بچوں نے وہ نہیں پڑھیں تو روایتی جنریشن گیپ کے ساتھ ایک کمیونیکیشن گیپ بھی پیدا ہوجائے گا۔
میں نے اپنے بچوں کو کتابیں پڑھانے کی بہت کوشش کی، ہرطرح کے جتن کیے، کچھ کامیابی ملی، مگر حسب توقع نہیں۔ میری پسندیدہ بچوں کی کہانیوں میں فیروز سنز کی شائع کردہ طلسم ہوشربا سیریز اور داستان امیرحمزہ شامل ہیں۔ یہ 10،10 چھوٹے سائز کی کہانیاں ہیں۔ میں نے چند سال پہلے ایک کتاب میلہ میں دونوں سیٹ خریدے اور گرمیوں کی چھٹیوں میں بچوں کو کہا کہ انہیں پڑھو اورجیسے ہی مکمل ہو، اس پر انعام حاصل کرو۔ تب 50 یا 100 روپے فی کہانی کے بچوں کو دیے۔ بڑے صاحبزادے نے لالچ میں 2،4 تو پڑھیں، مگر پھر دیگر کھیل اس پر غالب آگئے، منجھلے بیٹے نے البتہ تمام کہانیاں پڑھیں اور پھر ہرایک کا خلاصہ مجھے سنا کر انعامات بھی وصول کیے۔ اسے پڑھنے کا کچھ حد تک شوق ہے، مگر مسئلہ وہی ہے کہ آج کل بچوں کے پاس اتنے اٹریکٹو متبادل موجود ہیں کہ کاغذ پر لکھے سیاہ الفاظ ان کی توجہ نہیں کھینچ پاتے۔ بے شمار کارٹون ڈرامے، کارٹون فلمیں اور اس سے بھی بڑھ کر موبائل گیمز۔ پب جی، فری فائر وغیرہ سے ہم پریشان تھے، اب پتا چلا کہ یہ بدبخت ’روبلاکس‘ زیادہ پریشان کن ہے،بچے بڑے سب اس میں انوالو ہوچکے ہیں۔ ان گیمز میں ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے بچے اکٹھے گیم کھیل سکتے ہیں اور مائیک تک شیئر کر لیتے ہیں۔ اب تو ورچوئل گیمزآ رہی ہیں جو مزید تباہ کن ثابت ہوں گی۔ کبھی تومجھے لگتا ہے کہ ایسے میں کہانیاں اور کتابیں پڑھانے کی مہم ایک ہاری ہوئی جنگ ہے۔ پھر یہ احساس ہوتا ہے کہ اس جنگ کو ہمیں ہر حالت میں کامیاب بنانا ہے کیونکہ شکست کی صورت میں ہماری نئی نسل ہی برباد ہوجائے گی۔ سب سے اہم یہ کہ مغرب نے اور جاپان، چین وغیرہ نے اس سب کچھ کی یلغار کے باوجود بچوں کو کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالی، یوں وہاں بچے بڑے سب کتابیں پڑھتے ہیں۔
مزید پڑھیے: وہ واقعی چیمپیئن تھا
اچھے اسکولوں میں ایک فائدہ ہے کہ وہاں پرکئی کہانیوں، ناولوں کی کتابیں کورس کا حصہ ہیں، پڑھنا ضروری ہیں۔ تیسری چوتھی کلاس ہی سے کئی بک ریڈرلگے ہوتے ہیں۔ چھوٹا بیٹا عبداللہ پاک ترک اسکول میں پڑھتا ہے، ابھی 5واں گریڈ پاس کیا ہے، مگر اب تک وہ درجنوں کتابیں پڑھ چکا ہے، پچھلے سال گرمیوں کی چھٹیوں میں انہیں ایک ٹاسک یہ بھی دیا گیا کہ اسپورٹس کے حوالے سے ایک ناول یا ناولٹ لکھا جائے۔ دوسروں کا تو پتہ نہیں، ہمارے صاحبزادے نے ایک انگریزی مختصر ناول (ناویلا) لکھ ڈالا جس میں ان کے فیورٹ فٹ بال سپر اسٹار رونالڈو کے حوالے سے کہانی بنائی گئی تھی۔ چوتھی کلاس کے بچے سے ناول لکھوانا اسکول کی کامیابی سمجھی جائے گی۔
عبداللہ کے اسکول میں ایک معروف برطانوی ناول نگار رولڈڈاہل(Roald Dahl)کے ناول شامل ہیں۔ ہمارے ابوعہ کا یہ فیورٹ ادیب ہے۔ کتاب میلے سے اس نے 3،4 ناول خرید رکھے ہیں، وہاں سے تو خیر ہزار 1200 سے کم نہیں ملے، البتہ انار کلی کے پرانی کتابوں کے بازار سے میں 100 روپے فی کس کے حساب سے 2،3 ناول لے آیا۔ ان میں سے ایک ناول کا ممتاز مترجم، ادیب شوکت نیازی نے اردو میں ترجمہ بھی کیا ہے۔ بک کارنر جہلم نے اسے شائع کیا ہے۔ میں نے اسے پڑھا توبہت پسند آیا۔ شوکت نواز نیازی کا ترجمہ ایسا رواں اور معیاری ہے جیسے یہ ناول اردو میں ہی لکھا گیا ہو۔ مجھے خیال آیا کہ اگر ہمارے سرکاری ادارے کسی کام کے ہوتے تو شوکت نواز نیازی جیسے لوگوں سے بچوں کے لیے انگریزی ناولز کے تراجم کرواتے۔ انہیں بہت اچھا معاوضہ دیا جائے اور دیگر سہولتیں بھی تاکہ وہ دن رات اسی پر کام کریں اور یوں 2،3 برسوں میں کئی عمدہ کتابیں اردو میں ترجمہ ہوجائیں لیکن افسوس کہ یہ صرف خیال ہی رہے گا۔
پاکستان کے جن چند اسکولوں میں اردو یا انگریزی ناولوں کو نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے، وہ قابل تعریف ہیں۔ تاہم ایسا بیشتر اسکولوں میں نہیں۔ ویسے بھی 99 فیصد اسکول سسٹمز میں بچوں کو صرف 90، 95 فیصد نمبر لانے کی دوڑ میں ڈال دیا گیا ہے۔ بچوں کو اب 8ویں کلاس پڑھائی ہی نہیں جاتی اور پری نائنتھ کے نام پر وہ دن رات میرٹ بنانے کے گھن چکر میں پڑ جاتے ہیں۔ میٹرک کے امتحان دیتے ہی اگلے روز سے اکیڈمی جوائن کر لیتے ہیں تاکہ فرسٹ ایئر کی کلاسز شروع ہونے سے پہلے ہی نصاب کا ایک حصہ پڑھ ڈالیں۔ مقصد یہی کہ ایف ایس سی میں 95 فیصد نمبر لیے جائیں۔ اتنے نمبرز تو چند سو کے آتے ہیں، مگر لاکھوں طلبہ اس دوڑ میں اپنے آپ کو روبوٹ بنا دیتے ہیں۔ جنہیں درسی کتب اور نوٹس کے علاوہ کسی بھی چیز کا کچھ پتا نہیں۔
یہ سب بہت خوفناک ہے۔ کسی بھیانک خواب جیسا۔ اسے بدلنا چاہیے، مگرکیسے؟ یہ وہ سوال ہے جس پر غور کرنا چاہیے۔
حل نکالا جائے اور اپنی توانائی کا ایک حصہ اس میں لگایا جائے۔
مزید پڑھیں: پہلے اپنی پوزیشن بتائیں، پھر جواب لیں
عامر شہزاد نامی جن صاحب کے ٹیکسٹ میسج کا میں نے ابتدا میں ذکر کیا، ایسے لوگ غنیمت بلکہ نعمت ہیں جو اس بارے میں سوچ رہے ہیں۔ پاکستان سے باہر مقیم ہونے کے باوجود وہ دورافتادہ پسماندہ علاقوں میں لائبریریاں بنا رہے ہیں، بچوں کے لیے ادب تخلیق کرنے، سائنسی لٹریچر تیار کرنے اور سائنس میگزینز وغیرہ کا سوچ رہے ہیں۔ ایسے عظیم مقصد کے لیے صرف ایک آدمی کافی نہیں۔ اپنی اپنی سطح اور اپنے دائرے میں ہم سب کو کام کرنا چاہیے۔
اس حوالے سے کچھ مزید بھی لکھنا چاہتا ہوں، مگر کالم کی گنجائش ختم ہوئی۔ آئندہ نشست میں ان شااللہ اس پر بات آگے بڑھائیں گے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
اسکرین بمقابلہ کتابیں بچوں کا ادب داستان امیر حمزہ طلسم ہوشربا کتابیں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکرین بمقابلہ کتابیں بچوں کا ادب داستان امیر حمزہ طلسم ہوشربا کتابیں اسکولوں میں کے حوالے سے بچوں کے لیے کتابیں پڑھ جائے اور میں بچوں انہوں نے بچوں کو میں ایک رہے ہیں ہے کہ ا اور اس ہیں کہ
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔