لاہور(نیٹ نیوز) پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اور چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے پارٹی کو تجویز دی ہے حکومت میں شامل ہوں یا الگ ہوکر عوام میں جائیں مگر یہ فیصلہ سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی ہی کرسکتی ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے دباؤ کے تحت قانون سازی سے متعلق سوال کے جواب میں یوسف رضا گیلانی نے کہا کوئی رضاکارانہ طور پر اپنی وفاداری تبدیل کرنا چاہے تو وہ اس کی اپنی صوابدید ہے، مگر پارٹی سربراہان کے پاس اتنے وسیع اختیارات ہیں کسی مخصوص معاملے پر کوئی رکن ووٹ نہیں دیتا تو وہ ممبر نہیں رہ سکتا تو اس لیے جو دباؤ والی بات ہے اس سے میں اتفاق نہیں کرتا۔گذشتہ انتخابات کے حوالے سے سوال پر کہا  اس پر میں کمنٹ اس لیے نہیں کر سکتا اور آپ کو بھی نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ مخصوص نشستوں کی تشریح سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا دیکھیے، ان سے غلطی ہوئی انہوں نے الیکشن جو لڑا وہ کسی اور جماعت سے لڑا، جب پیپلز پارٹی پر قدغن لگائی گئی تو قانونی ماہرین کے مشورے پر پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین بنائی گئی تو عمران خان کو کوئی درست مشورہ نہیں دیا گیا۔ وزیردفاع کے بیان کے حوالے سے پوچھے سوال پر  کہا ملک میں کوئی ہائبرڈ سسٹم بالکل نہیں، وہ ان ( خواجہ آصف ) کی ذاتی رائے ہوگی۔ جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے انہوں  نے کہا مسلم لیگ ( ن ) کو اس میں دل چسپی نہیں ، وہ مخالفت کررہی ہے، وہ کبھی نہیں چاہے گی یہ صوبہ بنے۔ مگر جب تک سرائیکی خطے کا اپنا صوبہ نہیں بنے گا اس وقت تک محرومیاں، محکومیاں، اور پسماندگی رہے گی۔ تحریک انصاف کیساتھ مذاکرات کے سوال پر انہوں نے کہا  مذاکرات ہی حل ہے، نیلسن منڈیلا کو بھی آخر میں مذاکرات کرنے پڑے تھے، تو اس لیے میں ان سے یہی گزارش کروں گا آپ ڈائیلاگ کریں، یہ راستہ بند نہ کریں۔پنجاب میں ارکان اسمبلی کی معطلی کے حوالے سے انہوں نے کہا  احتجاج ایک حق ہے، مگر احتجاج کے اخلاقی طور پر بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کے حوالے سے انہوں نے نے کہا

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان