شوہرکے مظالم سے تنگ خاتون پانچ بچوں سمیت بے گھر،انصاف کیلیے دربدر
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)ضلعی نوشہروفیروز کی تحصیل مورو کے گوٹھ ڈیپارجہ کی رہائشی مسماۃ ماروی نے اپنے شوہر کے تشدد اور پانچوں بچوں کو زبردستی چھین کر گھر سے نکالنے کے خلاف حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ اس کی شادی اعجاز علی سولنگی سے 2009ء میں ہوئی تھی جس سے اس کے پانچ بچے پیدا ہوئے جبکہ اس کا شوہر چور، نشئی اور جرائم پیشہ شخص ہے جوکہ اس پر روزانہ شدید تشدد کرتا تھا، حتیٰ کہ دو بار قتل کرنے کی بھی کوشش کر چکا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس کے شوہر نے ہتھیاروں کے زور پر اس کے پانچوں بچے بھی چھین کر اسے گھر سے نکال دیا ہے، جس کے بعد وہ مجبور ہو کر گھر چھوڑ کر آ گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس نے پی ایس مٹھو شاخ تھانہ پر بھی فریاد کی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ نوشہروفیروز کی عدالت نے بھی پولیس کو اس کے تحفظ کا حکم دیا تھا لیکن پولیس عدالتی حکم پر عمل کرنے کے بجائے اسے اور اس کے ہمدردوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا رہی ہے۔انہوں نے وزیر اعلی سندھ ، آئی جی سندھ پولیس اور معزز عدالت سے اپیل کی کہ اس کے ظالم شوہر اعجاز سولنگی سے اس کے چھینے گئے پانچوں بچے واپس دلوائے جائیں اور اس ظالم شوہر کے خلاف قانونی کارروائی کر کے اسے تحفظ فراہم کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
( ملک رحمان)صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع شانگلہ میں ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ ضلع شانگلہ کی تحصیل الپورئی میں پیش آیا، جس میں گزشتہ رات مکان کی چھت اچانک ڈھہ گئی اور گھر میں موجود بچے ملبے تلے دب گئے، واقعے میں ایک بچہ زخمی بھی ہو گیا ہے، جسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے تمام لاشیں اور زخمی بچی کو نکال لیا ہے، جاں بحق بچوں میں ناظرہ، سمیرا، رضوان، نایاب، حیا نور اور عمیرہ بی بی شامل ہیں، جن کی عمریں 5 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے والد جہان بشر کا کچھ ہی عرصہ قبل انتقال ہوا تھا، اور ان کا مکان کچا تھا۔ مرنے والوں میں پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا شامل ہیں۔