غزہ میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے امریکا، قطر اور مصر کی ثالثی میں 60 روزہ جنگ بندی کا مجوزہ منصوبہ سامنے آیا ہے، جس میں قیدیوں کی مرحلہ وار رہائی، اسرائیلی افواج کا انخلا اور مستقل امن کے لیے مذاکرات شامل ہیں۔

نجی اخبار میں شائع خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، مذاکرات سے واقف ایک اہلکار نے بتایا کہ غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کے لیے امریکی حمایت یافتہ مجوزہ منصوبے میں قیدیوں کی مرحلہ وار رہائی، محصور علاقے سے اسرائیلی افواج کا انخلا اور تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات شامل ہیں۔

یہ منصوبہ تنازع میں شامل دونوں فریقوں کی منظوری سے مشروط ہے۔ امریکا، قطر اور مصر کے ثالث اس معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

رائٹرز سے بات کرتے ہوئے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اہلکار نے بتایا کہ اس منصوبے میں فلسطینی علاقے میں دشمنی کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات کی شقیں بھی شامل ہیں۔

موجودہ مسودے کے تحت، 10 اسرائیلی قیدیوں کو واپس کیا جائے گا، جب کہ 18 دیگر کی لاشیں لوٹائی جائیں گی۔

شیڈول کے مطابق، پہلے دن 8 قیدی، ساتویں دن 5 لاشیں، تیسویں دن 5 لاشیں، پچاسویں دن 2 قیدی اور ساٹھویں دن 8 لاشیں لوٹائی جائیں گی۔

یہ تبادلے بغیر کسی تقریب یا جلوس کے انجام دیے جائیں گے۔

٫
دسویں دن، حماس سے توقع کی جائے گی کہ وہ باقی ماندہ قیدیوں کے زندہ یا جاں بحق ہونے کی تصدیق کے لیے معلومات، شواہد اور طبی رپورٹس فراہم کرے گی۔

دوسری جانب، اسرائیل ان تمام فلسطینی قیدیوں سے متعلق مکمل معلومات فراہم کرے گا جو 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ سے گرفتار کیے گئے۔

روایتی طریقہ کار کے مطابق، حماس کی جانب سے قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، جس کے بدلے اسرائیل بھی زیر حراست فلسطینیوں کو آزاد کرے گا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس اور اس کے اتحادیوں کی حراست میں موجود 50 قیدیوں میں سے تقریباً 20 کے زندہ ہونے کا امکان ہے۔

اس کے علاوہ، اقوامِ متحدہ اور ریڈ کراس کی شمولیت کے ساتھ، غزہ میں فوری طور پر مناسب مقدار میں امداد فراہم کی جائے گی، جو کہ 19 جنوری کے معاہدے کے مطابق ہو گی۔

جب پہلے 8 اسرائیلی قیدی رہا کر دیے جائیں گے، تو اسرائیلی افواج شمالی غزہ کے کچھ علاقوں سے انخلا کریں گی، جیسا کہ نقشوں پر طے کیا جائے گا۔

ساتویں دن، اسرائیلی فوج جنوبی غزہ کے کچھ حصوں سے بھی پیچھے ہٹے گی۔

ایک تکنیکی ٹیم انخلا کی حدود کے تعین پر کام کرے گی، جو اس فریم ورک پر معاہدے کے بعد تیز رفتار مذاکرات کے ذریعے طے کی جائیں گی۔

ایک مستقل جنگ بندی کے لیے بھی مذاکرات شروع ہوں گے، جن میں مزید قیدیوں کا تبادلہ، غزہ کے لیے طویل المدتی سیکیورٹی انتظامات اور مستقل جنگ بندی کا اعلان جیسے نکات شامل ہوں گے۔

اگر معاہدہ طے پا گیا، تو 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ سے گرفتار کیے گئے تمام فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔

یہ تجویز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کی یقین دہانی کی ضمانت بھی فراہم کرتی ہے۔

اگر 60 روزہ جنگ بندی کے دوران مذاکرات کامیاب ہو گئے، تو یہ تنازع کے مستقل خاتمے کا سبب بنیں گے اور ثالث اس بات کی ضمانت دیں گے کہ اس وقفے کے دوران سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں گے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے مطابق جائے گا کے لیے

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔

متعلقہ مضامین

  • فرانس میں جنگلاتی آگ نے 43 ہزار افراد کو انخلا پر مجبور کردیا
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان