اسلام آباد (ویب ڈیسک) پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر زیر بحث ہیں اور اسیررہنما بھی مذاکرات کی تجویز دے رہے ہیں ، اب تجزیہ نگار ثقلین امام نے کہا ہے کہ مذاکرات وہ کرے گا جس کے پاس اختیار ہے، نوازشریف ویسے ہی جرات کا مظاہرہ کرے جیسے انہوں نے جنرل باجوہ اور فیض حمید کو للکارکے کہا تھا ، آج بھی کہیں کہ عاصم منیر پیچھے ہٹو،ہم حکمران ہیں یا ڈی جی آئی ایس آئی سے کہیں کہ بوریا بسترا بندکرو ،ہم حکمران ہیں۔وہ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کررہے تھے ۔

ثقلین امام نے مزید کہا کہ یاپھر حکومت اپنی مرضی سے ایک ٹرانسفر کرکے دکھا دے تاکہ دنیا کو پتہ چلے یہ حکمران ہیں ، اگر یہ اتنی جرات دکھاسکتے ہیں تو پی ٹی آئی کو بات کرنا پڑے گی ،آپ کے رہنمابیرون ملک جب بھی کہیں ملتے ہیں، میڈیا سے یا سیاسی شخصیات سےبات کرتے ہیں تو وہاں پاکستان کے حالات زیر بحث آتے ہیں،اپوزیشن کے رہنما بند ہیں، یہ کام تو کھل کر اشارہ ہے کہ جوحکومت کررہاہے، وہ پی ٹی آئی کو پنپنے نہیں دینا چاہتا بالخصوص عمران خان کو ۔

حکومت کا ایران و عراق جانے والے زائرین کیلئے پروازوں میں اضافے کا فیصلہ

 جب بیرون ملک سوال ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ مقدمات عدالت میں ہیں، ہم تو نیوٹرل ہیں، اصل حکمران نیوٹرل ہونے کا تاثر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حکومت یعنی وزیراعظم اور اپوزیشن کا معاملہ ہے ، اس لیے حکومت اور وزیراعظم ، ان کے رفقاء اور کابینہ کو اپوزیشن سے مذاکرات کرنے چاہیں، یہی تاثر عالمی سطح پر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اصل حکمران نیوٹرل ہیں۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: ہیں کہ

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان