نام میں ’دتا‘ کی جگہ ’کتا‘ لکھنے پر شہری کا انوکھا احتجاج، بھونکتے ہوئے ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ سرکاری دستاویزات میں لوگوں کے ناموں اور پتوں میں غلطیاں ہوتی رہتی ہیں جس کے بعد عام آدمی کو ان کی اصلاح کے لیے پریشان ہونا پڑتا ہے اور بار بار سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کے بعد بھی شہریوں کی درخواست کو نہیں سنا جاتا جس کےلیے وہ پریشان ہوتے ہیں۔
ایسا ہی ایک واقعہ مغربی بنگال کے ضلع بانکوڑہ سے سامنے آیا ہے، جو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے۔ ایک شخص جس کا نام شریکانتی دتا ہے راشن کارڈ پر اس کے نام میں ’دتا‘ کی جگہ شریکانتی ’کتا‘ لکھ دیا گیا اور بار بار کوششوں کے باوجود جب اصلاح نہ ہوئی تو اس نے انوکھا قدم اٹھایا۔
شریکانتی دتا نے مسلسل انتظامی لاپرواہی سے تنگ آ کر ایسا احتجاج کیا جس نے سب کی توجہ حاصل کر لی۔ متعلقہ شخص نے احتجاجاً ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی گاڑی میں بیٹھے افسر پر بھونکنا شروع کر دیا تاکہ افسر ان کے کاغذات دیکھنے پر مجبور ہو جائے۔ یہ احتجاج کسی نے ویڈیو میں قید کر لیا اور ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
Man barks at officer who wrongly printed his name from Dutta to Kutta pic.
— Anshul (@anshul_aliganj) July 3, 2025
شریکانتی دتا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں کس طرح کی توہین محسوس کر رہا تھا، یہ صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو اس تکلیف سے گزرا ہو۔ مجھے ایک بار نہیں، دو بار نہیں بلکہ تین بار جانا پڑا‘۔
انہوں نے کہا کہ ’جس شخص نے میرے کارڈ پر یہ غلطی کی، اگر اس کے نام کے ساتھ ’کتا‘ لکھا ہوتا تو وہ کیا کرتا؟ میں بہت غصے میں تھا، دل چاہا کہ جوتا اٹھا لوں، لیکن ہم تعلیم یافتہ لوگ ہیں، ایسا نہیں کر سکتے۔ اسی وقت سوچا کہ اپنے ’نام‘ کے مطابق عمل کرتا ہوں‘۔
دو دن بعد آخرکار ان کا نام درست کر دیا گیا۔ جس پر انہوں نے میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ میڈیا کی بدولت ہی ممکن ہوا کہ میری آواز سنی گئی اور نام درست ہوا‘۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حکومتی افسران نام تبدیلی ویڈیو وائرل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: حکومتی افسران نام تبدیلی ویڈیو وائرل
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔