اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ سرکاری دستاویزات میں لوگوں کے ناموں اور پتوں میں غلطیاں ہوتی رہتی ہیں جس کے بعد عام آدمی کو ان کی اصلاح کے لیے پریشان ہونا پڑتا ہے اور بار بار سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کے بعد بھی شہریوں کی درخواست کو نہیں سنا جاتا جس کےلیے وہ پریشان ہوتے ہیں۔

ایسا ہی ایک واقعہ مغربی بنگال کے ضلع بانکوڑہ سے سامنے آیا ہے، جو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے۔ ایک شخص جس کا نام شریکانتی دتا ہے راشن کارڈ پر اس کے نام میں ’دتا‘ کی جگہ شریکانتی ’کتا‘ لکھ دیا گیا اور بار بار کوششوں کے باوجود جب اصلاح نہ ہوئی تو اس نے انوکھا قدم اٹھایا۔

 شریکانتی دتا نے مسلسل انتظامی لاپرواہی سے تنگ آ کر ایسا احتجاج کیا جس نے سب کی توجہ حاصل کر لی۔ متعلقہ شخص نے احتجاجاً ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی گاڑی میں بیٹھے افسر پر بھونکنا شروع کر دیا تاکہ افسر ان کے کاغذات دیکھنے پر مجبور ہو جائے۔ یہ احتجاج کسی نے ویڈیو میں قید کر لیا اور ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

Man barks at officer who wrongly printed his name from Dutta to Kutta pic.

twitter.com/Di5uRPcLCI

— Anshul (@anshul_aliganj) July 3, 2025

شریکانتی دتا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں کس طرح کی توہین محسوس کر رہا تھا، یہ صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو اس تکلیف سے گزرا ہو۔ مجھے ایک بار نہیں، دو بار نہیں بلکہ تین بار جانا پڑا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’جس شخص نے میرے کارڈ پر یہ غلطی کی، اگر اس کے نام کے ساتھ ’کتا‘ لکھا ہوتا تو وہ کیا کرتا؟ میں بہت غصے میں تھا، دل چاہا کہ جوتا اٹھا لوں، لیکن ہم تعلیم یافتہ لوگ ہیں، ایسا نہیں کر سکتے۔ اسی وقت سوچا کہ اپنے ’نام‘ کے مطابق عمل کرتا ہوں‘۔

دو دن بعد آخرکار ان کا نام درست کر دیا گیا۔ جس پر انہوں نے میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ میڈیا کی بدولت ہی ممکن ہوا کہ میری آواز سنی گئی اور نام درست ہوا‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

حکومتی افسران نام تبدیلی ویڈیو وائرل

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: حکومتی افسران نام تبدیلی ویڈیو وائرل

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل