اسرائیل کی غزہ میں بڑے پیمانے پر زمینی کارروائی، مزید 140 فلسطینی شہید ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
غزہ(نیوز ڈیسک)اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر زمینی کارروائی کا آغاز کر دیا جس کے نتیجے میں مزید 140 فلسطینی شہید ہوگئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے اتوار کی شام اعلان کیا کہ اس نے غزہ بھر میں “وسیع پیمانے پر زمینی آپریشن” کا آغاز کر دیا ہے اور کئی علاقوں کے لیے انخلا کے احکامات جاری کیے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے شمالی غزہ میں ایک اسپتال سمیت مختلف مقامات پر حملے کیے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کو آزاد کرانا اور حماس کو شکست دینا ہے۔
حماس کے زیرانتظام وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوج کی کارروائی میں کم از کم 140 فلسطینی شہید اور 361 زخمی ہوئے۔
اس سے قبل غزہ کے سیف زون المواسی کیمپ پر اسرائیلی حملے میں 36 فلسطینی بھی شہید ہوئے تھے۔
دوسری جانب اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں قحط کی صورتحال سے بچنے کے لیے بنیادی خوراک کی فراہمی کی اجازت دے گا۔
ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ کی صورت حال کو ناقابل بیان، ظالمانہ اور غیر انسانی قرار دیا۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ اسرائیل کی غزہ کے محاصرے اور فاقہ کشی کی پالیسی بین الاقوامی قانون کا مذاق اڑاتی ہے، امداد کی ناکا بندی فوری ختم کی جائے۔
ملالہ نے جنگ زدہ لبنان میں بچوں کی تعلیم کیلئے رقم عطیہ کر دی
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔