کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں احتساب عدالت کا بڑا فیصلہ؛ ملزمان کے اثاثے منجمد
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں احتساب عدالت نے ملزمان کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دے دیا۔
احتساب عدالت میں کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں ملوث 2 ملزمان کے اثاثے منجمد کرنے کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت جج رجب علی کے روبرو ہوئی، جس میں عدالت نے نیب کی درخواستیں منظور کرلی۔
عدالت نے دونوں ملزمان کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیتے ہوئے نیب احکامات کی توثیق کردی۔
دورانِ سماعت نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ممتاز خان اور محمد ریاض کوہستان مالیاتی اسیکنڈل میں ملوث ہیں۔ نیب خیبر پختونخوا کوہستان کی اربوں روپے مالیاتی اسکینڈل کی تحقیقات کررہا ہے۔ ملزمان کی 7 لگژری گاڑیاں اور اسلام آباد میں مختلف پراپرٹیز ہیں۔ ملزمان نے بے نامی داروں کے نام پر اسلام آباد میں فارم ہاؤسز، رہائشی گھر اور فلیٹس بنائے ہیں۔
نیب پراسیکیوٹر نے مزید بتایا کہ ڈی جی نیب نے پہلے ہی اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت سے استدعا ہے کہ ڈی جی نیب کے احکامات کی توثیق کرے۔
بعد ازاں عالت نے درخواستیں منظور کرکے دونوں ملزمان کے اثاثے منجمد کرنے کی نیب احکامات کی توثیق کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملزمان کے اثاثے منجمد کرنے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔