وفاقی وزیر صحت کی ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کا 78 وہواں اجلاس جنیوا میں منعقد کیا گیا ہے جہاں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال بھی شریک ہوئے ہیں۔
ترجمان وزارت صحت کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال 78ویں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں پاکستان کی نمائندگی کر رھے ہیں جہاں وہ وبائی امراض سے تیاری، یونیورسل ہیلتھ کوریج، اور غیر متعدی بیماریوں جیسے اہم ایجنڈا پر اتفاق کریں گے۔
ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیر صحت مصطفی کمال ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب بھی کریں گے جس میں وہ اب تک کی پیش رفت، درپیش چیلنجز جن میں پولیو کا خاتمہ بھی شامل ھے، اس بارے آگاہ کریں گے
مزید برآں وہ وباؤں بیماریوں کے خلاف اقدامات کے حوالے سے پاکستان کی پیش رفت کو اجاگر کریں گے۔
ترجمان وزارت صحت کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر صحت عوام کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے عالمی شراکت داروں کی تکنیکی معاونت سے آئندہ کا لائحہ عمل بھی پیش کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر کریں گے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔