جماعت اسلامی کا بدامنی کیخلاف سندھ بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
صوبائی امیر کاشف سعید شیخ نے کہا کہ گذشتہ سترہ سال سے تسلسل کے ساتھ برسر اقتدار پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کراچی تا کشمور قیام امن میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی سندھ نے صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی و ڈاکو راج کے خلاف جمعہ 23 مئی کو کراچی تا کشمور سندھ بھر میں احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کر دیا، عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل، پانی پر ڈاکہ اور کارپوریٹ فارمنگ کے خلاف جدوجہد تیز کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا۔ امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے لوئر سندھ کے ضلعی امراء کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سترہ سال سے تسلسل کے ساتھ برسر اقتدار پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کراچی تا کشمور قیام امن میں ناکام ثابت ہوئی ہے، اس وقت پورا صوبہ بدامنی کی لپیٹ میں ہے، خاص طور پر کشمور، گھوٹکی، شکارپور اور جیکب آباد میں بدترین بدامنی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دی ہے۔ انمہوں نے کہا کہ مقامی بااثر ظالم وڈیروں، ڈاکوﺅں اور پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کے گٹھ جوڑ نے سندھ میں اغوا برائے تاوان کو ایک منافع بخش کاروبار بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی پر ڈاکہ، زمینوں اور وسائل پر قبضے کی سازش سے لیکر ڈاکو راج تک صوبہ سندھ چاروں طرف سے مافیاز کے گھیرے میں ہے۔
کاشف سعید شیخ نے کہا کہ بدامنی کی وجہ سے تعلیم سے لیکر کاروبار، معیشت اور تہذیب و ثقافت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی درجنوں لوگ ڈاکوﺅں کے چنگل میں ہیں، خاص طور پر ہندو اقلیتی برادری کو پریشان کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں ہندو خاندان اپنا کاروبار اور گھر چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اس سے پہلے اس سنگین و اہم مسئلے پر آل پارٹیز کانفرنس، دھرنے بھی دیئے ہیں، عوامی احتجاج اور حکام بالا کو بارہا توجہ دلانے کے باوجود ان کے کانوں پر جون تک نہیں رینگتی، جو کہ بے حسی کی انتہا ہے۔ صوبائی امیر نے زور دیا کہ عوام جمعہ کو بدامنی کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کرکے بیداری کا ثبوت دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نے کہا کہ
پڑھیں:
’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
بھارت میں مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج اب صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ایک نئی تحریک کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
اس احتجاج کی قیادت کاکروچ جنتا پارٹی کر رہی ہے، جو ابتدا میں بھارت کے چیف جسٹس کے ایک طنزیہ ریمارکس کے جواب میں وجود میں آئی تھی۔ بعد ازاں یہ تحریک نیٹ پرچہ لیک، سرکاری ملازمتوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے تک پھیل گئی۔
گزشتہ ایک ماہ سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا دینے والے مظاہرین وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور امتحانی نظام میں شفاف اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
جنریشن زیڈ میمز، انسٹاگرام ریلز، وائرل ٹرینڈز، بالی ووڈ، کے-پاپ اور آن لائن کلچر کے ذریعے اپنے مطالبات حکومت اور دنیا تک پہنچا رہی ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ آخر وہ کون سے ٹرینڈز ہیں جنہوں نے اس احتجاج کو سوشل میڈیا پر دیگر تحریکوں سے منفرد بنا دیا ہے۔
جین زی کا منفرد احتجاجی انداز:
گیٹ ریڈی ود می ٹرینڈ:
احتجاج کے دوران سوشل میڈیا پر ’گیٹ ریڈی وِد می‘ کی ویڈیوز بھی نمایاں ٹرینڈ بن کر سامنے آئی ہیں۔
عام طور پر یہ فارمیٹ میک اپ، اسکن کیئر یا کسی تقریب کی تیاری دکھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اس بار نوجوان مظاہرین نے اسے احتجاجی انداز میں اپنایا ہے۔
ویڈیوز کا آغاز عموماً اس کیپشن سے ہوتا ہے کہ ’’نیٹ پیپر لیک کے احتجاج میں شریک ہونے کیلئے میرے ساتھ تیار ہوں‘‘، جس کے بعد احتجاجی بینرز تیار کرنا، پانی کی بوتلیں، دیگر ضروری سامان پیک کرنا، اور دوستوں کے ساتھ احتجاجی مقام کی جانب روانگی جیسے مناظر دکھائے جاتے ہیں۔
View this post on Instagramہوو سیڈ آئی لوو یو فرسٹ ٹرینڈ:
سوشل میڈیا پر مقبول ’ہوو سیڈ آئی لوو یو فرسٹ‘ ٹرینڈ کو بھی نوجوان مظاہرین نے احتجاجی انداز میں استعمال کیا۔
اس وائرل فارمیٹ میں عام طور پر رومانوی سوالات پوچھے جاتے ہیں، تاہم کانٹینٹ کریئٹرز نے ان سوالات کی جگہ احتجاج، نیٹ پرچہ لیک اور حکومتی اقدامات سے متعلق طنزیہ جملے شامل کر دیے۔
View this post on Instagram
حقیقی زندگی میں ’سب وے سرفرز‘
احتجاج کے دوران پولیس سے بچنے کے مناظر کو بھی جین زی نے مشہور موبائل گیم ’سب وے سرفرز‘ سے تشبیہ دے دیا۔
متعدد انسٹاگرام ریلز میں مظاہرین پولیس سے بچتے اور بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ پس منظر میں گیم کی مشہور موسیقی چل رہی ہوتی ہے۔
یہ انداز خاص طور پر ان نوجوانوں میں مقبول ہوا جو بچپن سے اس موبائل گیم سے واقف تھے۔ یوں احتجاج کی مختصر ویڈیوز صرف مظاہرے کی جھلک تک محدود نہ رہیں بلکہ میمز کی شکل اختیار کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے لگیں۔
View this post on Instagram