راولپنڈی:سکیورٹی فورسزنے بھارتی ایجنسیوں کے حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے نو دہشت گردوں کو خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں جھڑپوں کے دوران واصلِ جہنم کر دیا ۔آئی ایس پی آرکے مطابق سکیورٹی فورسز نے ضلع لکی مروت میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک آپریشن کیا۔  اس دوران فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بھارت کی پشت پناہی کے حامل پانچ  خوارج واصلِ جہنم ہوئے۔ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ضلع بنوں میں کیا گیا، جس میں دو خوارج کو کامیابی سے ٹھکانے لگا دیا گیا۔اسی طرح ایک اور واقعہ شمالی وزیرستان کے عمومی علاقے میر علی میں پیش آیا، جہاں خوارج نے سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ کیا۔  فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے دو   خوارج کو واصلِ جہنم کر دیا۔ تاہم، فائرنگ کے شدید تبادلے کے دوران دو بہادر سپوت، سپاہی فرہاد علی توری (عمر: 29 سال، رہائشی ضلع کرم) اور لانس نائیک صابر آفریدی (عمر: 32 سال، رہائشی ضلع کوہاٹ) مادرِ وطن پر قربان ہو کر شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے۔آئی ایس پی آرکے مطابق علاقے میں مزید خوارج کی تلاش اور خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہیں۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز مادر وطن کو ہندوستانی پراکسی دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے پرعزم ہیں، اور ہمارے شہداء کی قربانیاں ہمارے اس عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار