بھارتی سپریم کورٹ نے کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف بیان متنازع بیان دینے پر مودی سرکار کے وزیر کیخلاف تحقیقات کے لیے اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم بھی تشکیل دینے کا حکم دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ میں مدھیہ پردیش کے وزیر کنور وجے شاہ کے ترجمان فوج کرنل صوفیہ قریشی کے بارے میں متنازع بیان پر سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران مدھیہ پردیش میں مودی سرکار کے وزیر وجے شاہ نے کرنل صوفیہ قریشی سے متعلق اپنے بیان پر معافی مانگی۔

ججز نے کہا کہ آپ ایک عوامی شخصیت ہیں۔ آپ کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ آپ کی تقریر کی ویڈیو سے لگتا ہے آپ گالی دینے ہی والے تھے لیکن یا تو خود کو روک لیا یا مناسب الفاظ نہ مل سکے۔

بینچ نے وزیر وجے شاہ سے کہا کہ آپ کی معذرت میں خلوص کا فقدان ہے۔ آپ نے کہا 'اگر کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو معذرت'۔ یہ مشروط معافی ناقابل قبول ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ آپ نے کرنل صوفیہ کے بارے میں جو الفاظ ادا کیے نہ اس کا اعتراف کیا اور نہ ہی ندامت ظاہر کی بلکہ اگر مگر سے کام لیا۔

جسٹس سوریا کانت اور جسٹس این کوٹیسور سنگھ پر مشتمل بینچ نے وزیر کنور وجے شاہ کی معذرت کو عدالتی کارروائی سے بچنے کی کوشش قرار دیا۔

عدالت نے وزیر کے بیان کو شرمناک اور عوامی احساسات کو مجروح قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معافی ہمیں درکار نہیں۔ آپ نے ایک غلطی کی اور اب محض ایک کھوکھلی معافی کے ذریعے بچنا چاہتے ہیں؟ کیا یہی آپ کا رویہ ہے؟

ججز نے مدھیہ پردیش کے وزیر کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ آپ کے ان الفاظ سے پورے ملک کو شرمندگی اُٹھانا پڑی ہے۔

سپریم کورٹ نے بی جے پی وزیر کی معافی کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دینے کا حکم بھی دیا۔

بھارتی سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں جو ملک کے اعلیٰ سے ادنیٰ شہری سب پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ایس آئی ٹی میں اعلیٰ سطح کے پولیس افسران کو شامل کرکے 28 مئی تک اپنی ابتدائی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔

عدالت نے وزیر وجے شاہ کو ہدایت دی کہ وہ تفتیش کے لیے ایس آئی ٹی کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

یاد رہے کہ مدھیہ پردیش حکومت کے بی جے پی کے وزیر نے بھارتی فوج کی ترجمانی کرنے والی مسلم آفیسر صوفیہ قریشی کو بھرے جلسے میں دہشت گردوں کی بہن کہا تھا۔

جس پر ریاستی ہائی کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے وزیر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔

بی جے پی کے وزیر وجے شاہ نے ہائی کورٹ کے اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

تاہم سپریم کورٹ نے بھی ہائی کورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابھی صرف تفتیش کا حکم ہوا ہے، کوئی سزا نہیں دی گئی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سپریم کورٹ نے وزیر وجے شاہ مدھیہ پردیش صوفیہ قریشی کرنل صوفیہ کے وزیر کہا کہ کا حکم

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار