انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا سالانہ جنرل اجلاس 17 سے 20 جولائی تک منعقد ہوگا۔

کرک بز کی رپورٹ کے مطابق آئی سی سی کا سالانہ اجلاس سنگاپور میں منعقد ہوگا، جس میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیئرمین جے شاہ اور ایشین کرکٹ کونسل کے سربراہ محسن نقوی بھی شریک ہوں گے۔

بھارت کی جانب سے ایل او سی پر اشتعال انگیز کا رروائیوں پر پاکستان کے جواب نے مودی حکومت کو دنیا بھر رسوا کردیا ہے جبکہ آئی سی سی کے سالانہ اجلاس میں دونوں ممالک کی شرکت کو اہمیت کا حامل سمجھا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: ایشیا کپ سے دستبرداری کی خبروں پر بھارتی بورڈ کا بیان سامنے آگیا

آئی سی سی اجلاس سے قبل بھارتی میڈیا نے خبریں پھیلائیں تھی کہ بھارت ایشیاکپ 2025 سے دستبردار ہورہا ہے اور ایونٹ میں شرکت نہیں کرے گا، بعدازاں بھارتی بورڈ (بی سی سی آئی) نے اس خبر کی تردید کی۔

مزید پڑھیں: بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس سال شیڈول ایشیا کپ نہ ہونے کا خدشہ

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ عالمی کرکٹ کے منتظمین کو خدشہ ہے کہ پاک بھارت مسئلہ اجلاس کے دیگر موضوعات پر حاوی ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ یہ جے شاہ کے آئی سی سی چیئرمین منتخب ہونے کے بعد پہلی سالانہ کانفرنس ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی