سابق سربراہ ،شعبہ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز، اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور

22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے واقعے کے بعد بھارت کی طرف سے فوراً پاکستانی حکومت کے ملوث ہونے کا الزام لگا دیا گیا۔ جس کے جواب میں پاکستانی حکومت کی تردید اور اس واقعے کی کسی غیر جانب دار فورم پر تحقیقات کرانے کی پیشکش کو بھارت نے مسترد کردیا ۔

تصدیق کی زحمت کئے بغیر، سرکاری سطح پر بھارتی میڈیا کے ذریعہ جنگی جنون کی کیفیت پیدا کردی گئی۔ پاکستان کی جانب سے تناؤ کو کم کرنے اور متوقع جنگ کو روکنے کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں جاری رہیں، لیکن بھارت کی طرف سے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بہاول پور ، مریدکے ، کوٹلی اور مظفر آباد کی مساجد میں میزائلوں سے حملہ کردیا گیا۔ جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت معصوم جانوں کا نقصان ہوا۔ پاکستان نے جواب میں بھارتی ملٹری تنصیبات اور چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد بھارت نے ایک بار پھر جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی مختلف ائیر بیسز کو نشانہ بنایا اس کے جواب میں پاکستان کی جانب سے آپریشن ’بنیان المرصوص شروع کیا گیا جس میں بھارت کے مختلف شہروں میں بھرپور حملہ کرکے ائیر بیسز اور دیگر ملٹری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔

بھارت نے دو ایٹمی ممالک کے درمیان یہ جنگ شروع کرکے جنوبی ایشیا اور عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا۔ اس موقع پر اس کا احساس عالمی سطح پر بھی کیا گیا اور امریکا اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک مصالحت کار کے طور پر سامنے آئے۔ ان سفارتی کوششوں اور دوسری طرف پاکستان کے آپریشن بنیان المرصوص کے نتیجے میں بھارت کو پہنچنے والے شدید نقصان نے بھی بھارت کو سیز فائر اور مذاکرات کی ٹیبل پر آنے پر مجبور کردیا۔ امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 مئی کی شام کو کیے جانے والے ٹوئیٹ میں پاک بھارت کے مابین سیز فائر کا اعلان کرکے اس کا کریڈٹ حاصل کیا۔ اس کا باقاعدہ اعلان بھارتی سیکرٹری خارجہ کی طرف سے بھی کردیا گیا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر یقیناً ایک خوش آئند اور امید افزا اقدام ہے۔ پوری قوم اس وقت پاکستان آرمی کی شاندار کارکردگی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے خوشی و اطمینان کا اظہار کر رہی ہے۔ لیکن دوسری طرف بھارت میں میڈیا ’آپریشن سندور‘ کے ابھی جاری رہنے کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے، جبکہ عوام ، اپوزیشن اور صحافیوں کی جانب سے بھارتی حکومت پر جنگی نقصانات اور سیز فائر کے حوالے سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

اب اس سیز فائر کو برقرار رکھنا دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے، کیونکہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر سیز فائر کے حوالے سے انڈیا کا ماضی کا ریکارڈ زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہا اور موجودہ سیز فائر کے بعد سیز فائر کی خلاف ورزی کی خبریں آرہی ہیں۔ اسی لئے پاکستان اس دوران دشمن کی جانب سے کسی ممکنہ نئی مہم جوئی کا بروقت اور مؤثر جواب دینے کے لیے اس کی فوجی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب مذاکزات کی ٹیبل پر پاکستان کی حکومت کے لیے یہ جنگ سے بڑا امتحان ہے۔ اسے چاہیے کہ سیز فائر کے بعد بھارت کو مذاکرات کی میز پر لانے اور مفید نتائج حاصل کرنے کے لیے سفارتی میدان میں بھرپور مہارت اور تدبر کا مظاہرہ کرے کیوں کہ بھارت اگرچہ بظاہر سیز فائر پر آمادہ ہو چکا ہے، لیکن مذاکرات کی میز پر آنا اس کے لیے اتنا آسان فیصلہ نہیں ہوگا۔ اگر وہ مذاکرات کے لیے تیار بھی ہوگیا تو شرائط رکھ کر آئے گا اور ان شرائط میں ایک شرط یہ بھی ہوگی کہ کشمیر پر کوئی بات نہیں کی جائے گی اور بقول اس کے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی دہشت گردی کو سر فہرست رکھا جائے، تیسری ممکنہ شرط یہ ہوگی کہ یہ مذاکرات شملہ معاہدہ کے تحت ہوں گے اور اس میں کسی تیسرے فریق کو شامل نہیں کیا جائے گا۔

جب کہ پاکستان کو چاہیے کہ امریکی صدر کو اس سیز فائر کا کریڈٹ دیتے ہوئے وہ امریکہ کو اس معاملے میں مؤثر اور فعال کردار ادا کرنے پر آمادہ کرے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ کے مطابق مسلہ کشمیر ، سندھ طاس معاہدہ اور بھارت کی جانب سے بلوچستان و خیبر پختون خواہ میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث ہونے کو مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل کروا کر ان کا حل نکالنے کی کوشش کرے۔ یہ پاکستان کے لیے سفارتی محاذ پر ایک کڑا امتحان ہوگا۔

پہلگام واقع کے تناظر میں لڑی جانے والی پاک بھارت جنگ جنوبی ایشیا اور دنیا کے منظر نامہ میں ممکنہ طور پر کچھ اہم تبدیلیاں لاسکتی ہے۔ تاہم اس کیلئے یہ دیکھنا ہوگا کہ آنے والے دنوں میں ڈپلومیسی کے میدان میں امریکا ، برطانیہ ، یورپی یونین ، یو این او اور دیگر اہم ممالک کیا کردار ادا کرتے ہیں۔اور بھارت مذاکرات کے حوالے سے دنیا کے ممکنہ دباؤ کا کسں طرح سامنا کرتا ہے۔اس وقت یہ بات خوش آئند ہے کہ امریکی صدر بوجوہ پاک بھارت تنازع میں دل چسپی لے رہے ہیں۔ ممکنہ تبدیلیوں کے خد وخال کچھ اس طرح کے ہو سکتے ہیں۔

٭یہ امر اہمیت کا حامل ہے کہ پاک بھارت جنگ کے بعد ہونے والی بین الاقوامی پیش رفت سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلئے بھارت کو مذاکرات کی ٹیبل پر لانا یقیناً ڈپلومیسی کے میدان میں پاکستان کا بڑا امتحان ہوگا۔

تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ 12 مئی کو پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کی میٹنگ میں فائر بندی کو برقرار رکھنے، دونوں ملکوں کی افواج کا ایک دوسرے پر فائر نہ کرنے اور سرحدوں پر افواج کو کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لیکن دوسری طرف بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی تقریر میں ایک بار پھر اپنے سابقہ موقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ "اگر بات ہوگی تو پاکستانی مقبوضہ کشمیر اور بقول ان کے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی دہشت گردی پر .

. یہ نہیں ہوسکتا کہ ٹریڈ بھی جاری رہے اور ٹیررزازم بھی۔۔۔ پانی بھی بہتا رہے اور خون بھی۔" یقیناً وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے اپنے عوام، اپوزیشن اور ہندو توا کے دباؤ کو کم کرنے کیلئے اس طرح کا بیان مذاکرات کے حوالے سے مثبت پیش رفت نہیں ہے۔

لیکن توقع کی جا سکتی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی کا فیصلہ کرانے کی طرح دباؤ کے ذریعے دونوں ممالک کو مذاکرات کی ٹیبل پر بٹھا کر تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کریں گے اور ایک اور کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھنا چاہیں گے۔یہ امر واضح ہے کہ اگر امریکہ اور دیگر مصالحت کاروں کا بھرپور اور مسلسل دباؤ نہ ہوا تو انڈیا کوئی بہانہ یا ایڈونچر کرکے مذاکرات سے انکار کرسکتا ہے، یا اس سلسلے میں پاکستان کیلئے ناقابل قبول پیشگی شرائط عائد کرسکتا ہے۔

٭یہ جنگ انڈیا کو جنوبی ایشیا اور بین الاقوامی منظر نامے میں کسی حد تک پیچھے لے گئی ہے۔ ان کی جنوبی ایشیا پر بالا دستی اور اکھنڈ بھارت کے خواب کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ ٭مسئلہ کشمیر ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر ابھر کر سامنے آگیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ "مسئلہ کشمیر کو حل ہونا چاہیے اور یہ کہ میں دیکھتا ہوں کے اس مسئلے کے حل کیلئے میں کیا کرسکتا ہوں"۔ ٹرمپ کے اس ٹویٹ کے بعد اب یہ پاکستانی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح سے ڈپلومیسی کے میدان میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ ٭بھارت اور پاکستان کے لئے ایک دوسرے کے علاقوں پر قابض ہونا تقریباً ناممکن ہوگیا ہے اور اس حوالے سے ماضی کے مقابلے میں اب پاکستان کسی حد تک بہتر پوزیشن میں آگیا ہے۔ ٭پاکستان انڈیا میں روایتی جنگ کے عدم توازن کا تصور ختم ہوکر کسی حد تک پاکستان کے حق میں آگیا ہے۔

٭اس جنگ نے دنیا میں چینی ٹیکنالوجی کی برتری ثابت کردی ہے۔اور اب امریکہ کے اکسانے پر بھارت، تائیوان سمیت کوئی ملک چین کے خلاف جنگ کرنے کا نہیں سوچے گا۔ ٭دنیا یونی پولر سے بائی پولر ہونے کی طرف پیش رفت ہوئی ہے اور اس وجہ سے اب دنیا امریکہ کے ساتھ ساتھ چین کے بیانیے کو بھی اہمیت دے گی، کیونکہ چین اس جنگ کے نتیجے میں ٹیکنالوجی کے میدان میں کافی حد تک امریکہ اور یورپ کے ہم پلہ ہو گیا ہے۔ ٭پاکستان چین کی دوستی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے اور اب امریکہ اور یورپ چین اور پاکستان کی علاقائی اہمیت کو آسانی سے نظر انداز نہیں کرسکیں گے۔ ٭جنوبی ایشیا کے ممالک بنگلہ دیش ، سری لنکا ، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ اب پاکستان اور چین کے ساتھ تعلقات کو پہلے سے زیادہ اہمیت دیں گے اور بھارت کی علاقائی بالا دستی کو پہلے کی نسبت بہتر پوزیشن میں چیلنج کر سکیں گے۔

٭امریکہ جو کہ جنوبی ایشیا میں بھارت کو چین کے خلاف پروموٹ کر رہا تھا اس پالیسی کے بارے میں نظر ثانی کے بارے میں سوچے گا اور چین اور روس سے تعلقات کو بہتر کرنے کی طرف جائے گا۔  ٭پاکستان نے دفاعی محاذ پر جو زبردست کامیابی حاصل کی ہے اس کو سفارتی کامیابیوں میں بدلنے کیلئے پاکستان کو بہت کامیاب حکمت عملی اور جنگی بنیادوں پر سفارتی کوششیں کرنا ہوں گی کیونکہ انڈیا جنگی محاذ پر منہ کی کھانے کے بعد اب سفارتی محاذ پر پاکستان کو شکست دینے کی بھر پور کوشش کرے گا۔

٭امریکہ ایران پر حملے کی پالیسی پر ممکنہ طور پر نظر ثانی کرے گا اور اسرائیل کو بھی اس حوالے سے کوئی بڑا جارحانہ قدم اٹھانے سے روکے گا۔ ٭اس جنگ نے پاکستان کی ایٹمی ڈیٹرنیس کی ضرورت، اہمیت اور صلاحیت کو ثابت کردیا ہے لہذا اس صلاحیت میں وقت کے ساتھ اضافے کو جاری رکھنا ضروری ہے۔ ٭اس جنگ نے جنوبی ایشیا میں پاکستان کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے اس کو برقرار رکھنے اس میں اضافہ کرنے اور اس اہمیت سے بھرپور سفارتی اور معاشی فائدے اٹھانا پاکستانی حکومت کا جنگ سے بڑا امتحان ہوگا۔

ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ دونوں ممالک کی قیادت اس موقع سے فائدہ اٹھا کر دانشمندی، بصیرت اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ممالک میں امن و ترقی کے فروغ کا ذریعہ بنیں گے۔ اس ضمن میں امریکہ، اقوامِ متحدہ اور دنیا کی دیگر عالمی طاقتوں کو پاکستان اور بھارت کے مابین مسلہ کشمیر ، سندھ طاس معاہدہ اور دہشت گردی کے معاملے کے پائیدار حل کے لیے ایک فعال اور مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کا قیام ممکن ہو سکے اور جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی طاقتیں مستقبل میں جنگ کے ذریعے عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے کا باعث نہ بنیں۔ 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستانی حکومت کے میدان میں پاکستان اور جنوبی ایشیا میں پاکستان کے حوالے سے سیز فائر کے ایک بار پھر مذاکرات کے کو مذاکرات ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کی پاکستان کے پاکستان کی کی جانب سے کی ٹیبل پر اور بھارت پاک بھارت پاکستان ا میں بھارت کی طرف سے بھارت کے بھارت کی بھارت کو ا گیا ہے نے والے میں پاک کرنے کی کے بعد کے لیے چین کے ہے اور اور اس جنگ کے

پڑھیں:

امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ

اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی

بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔

اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔

وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔

امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔

فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔

سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔

بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔

4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟