کل 20 مئی کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات ہوں گے، اس سے قبل پاک بھارت فوجی کشیدگی کے دوران تینوں ممالک کے درمیان 11 مئی کو مذاکرات ہوئے جس میں افغانستان کو چین کے اقتصادی راہداری کے منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا حصّہ بنانے کی بات کی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان نے اسلام آباد اور بیجنگ کو یقین دہانی کروائی کہ وہ پاکستان کے ساتھ متصل اپنی سرحد کو محفوظ بنائے گا اور افغانستان میں بھارت کے اثرورسوخ کو محدود کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں افغان مہاجرین کی باعزت واپسی، اپنی سرزمین ایک دوسرے کیخلاف استعمال نہیں ہونے دینگے، پاکستان افغانستان کا اتفاق

کل 20 مئی کو سہ فریقی مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار جبکہ افغانستان کی نمائندگی قائم مقام وزیرخارجہ امیرخان متقی کریں گے۔ اس سے قبل 19 اپریل کو پاکستانی نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے افغانستان کا دورہ کیا تھا جس میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن اور تجارت کو فروغ دینے پر مثبت انداز میں بات چیت کی گئی۔

افغان طالبان اور بھارت کے تعلقات

ان مذاکرات کی اہمیت اس وجہ سے بھی بڑھی جاتی ہے کہ ایک بھارتی سینیئر تجزیہ نگار پراوین ساھنی نے حال ہی میں کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ فوجی کشیدگی کے دوران صرف دو ممالک نے بھارت کا ساتھ دیا، جن میں ایک اسرائیل اور دوسرا افغانستان شام ہے۔ ان شکوک کو اس بنا پر بھی تقویت ملتی ہے کہ 16 مئی کو بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور افغان قائم مقام وزیرخارجہ امیرخان متقی کے درمیان کے ٹیلیفونک بات چیت ہوئی جس میں بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر نے امیر خان متقی کا شکریہ ادا کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا گیا۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق امیرخان متقی نے بھارت سے افغان شہریوں کے لیے زیادہ ویزوں کے اجرا کی بات کی۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ 22 اپریل کو پہلگام واقعے کے بعد جب بھارت نے پاکستان کے ساتھ واہگہ بارڈر کو بند کردیا تھا تو بندش کے بعد افغانستان نے جب پاکستان سے اپنے پھنسے ہوئے تجارتی ٹرکوں کی بھارت روانگی کے لیے بات کی تو پاکستانی وزارت خارجہ نے بلا توقف اُن کو اجازت دی جس کے بعد بھارتی ٹرک واہگہ کے راستے بھارت داخل ہوئے۔

پاکستان میں افغانستان کے راستے دہشتگردی کے پیچھے بھارتی معاونت

پاکستانی دفترِ خارجہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر متعدد بار یہ کہہ چُکے ہیں کہ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، سانحہ جعفر ایکسپریس میں پاکستان نے بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی پیش کیے، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے پر بھارت کی سرپرستی کے حوالے سے الزامات بھی لگتے رہتے ہیں، اس کے بعد سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان چین اور افغانستان کے درمیان سہ فریقی مذاکرات میں افغانستان کیا اپنی حدود میں بھارتی اثر و رسوخ کم کر پائے گا؟

پاکستان، چین اور افغانستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات 2018 سے جاری ہیں، 2021 میں بھی تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا تھا جس میں جنگ بندی اور افغانستان میں قیام امن پر زور دیا گیا تھا۔

سہ فریقی مذاکرات کا ایجنڈا

بیجنگ میں ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کا مقصد خطے میں امن، دہشتگردی کے خلاف تعاون اور اقتصادی راہداری جیسے پروگرام کے ذریعے اقتصادی ترقی اور تجارت کو فروغ دینا ہے۔

چین جہاں اس عمل میں بطور ایک ثالث اپنا کردار ادا کرکے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کی فضا کو کم کرنا چاہتا ہے وہیں وسط ایشیائی ریاستوں کو مربوط کرنے اور اقتصادی راہداری بنانے میں چین سمیت اس خطے کے تمام ممالک کا مفاد شامل ہے۔

پاکستان کو ایک مشکل توازن قائم کرنے کے عمل کا سامنا ہے، مائیکل کوگلمین

امریکی تھنک ٹینک وِلسن سینٹر سے وابستہ جنوبی ایشیائی اُمور کے ماہر مائیکل کوگلمین نے ان سہ فریقی مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو 2025 میں ایک مشکل توازن قائم کرنے کے عمل کا سامنا ہے جب عالمی مقابلے بازی کے دور میں اُس کے افغانستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ اور چین کے ساتھ سی پیک کے ذریعے تزویراتی شراکت داری بڑھ رہی ہے۔

سہ فریقی مذاکرات اچھا قدم، نتائج کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے، مسعود خالد

بیجنگ میں پاکستان کے 13 سال تک سفیر رہنے والے مسعود خالد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ چین کی جانب سے یہ اچھا اقدام ہے جس میں وہ پاکستان اور افغانستان کو شامل کرکے امن اور استحکام کے لیے کوشش کررہا ہے، یہ سہ فریقی میکنزم طویل عرصے سے چل رہا ہے اور گزشتہ دنوں چین کے نمائندہ خصوصی نے پاکستان اور افغانستان کے دورے بھی کیے اور یہ مذاکرات بھی بنیادی طور پر چین کی دعوت پر ہو رہے ہیں جس میں افغانستان کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

انہوں نے کہاکہ اسی چیز سے بہتری اور استحکام آئے گا، یہ اقدام بہت اچھا ہے لیکن اس کے نتائج کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا کیونکہ افغان عمومی طور پر اپنی یقین دہانیوں کے معاملے میں غیر حتمی اور غیر یقینی سے صورتحال کا شکار نظر آتے ہیں۔ پتہ نہیں کہ وہ ٹی ٹی پی کو کنڑول کر نہیں سکتے یا کرنا نہیں چاہتے۔

ایک سوال کہ بھارت کے افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات بہت بہتر ہو رہے ہیں؟ سفارتکار مسعود خالد نے کہا کہ اس وقت انڈیا ایک زخمی شیر ہے اور وہ ہر اُس صورتحال کا فائدہ اُٹھانا چاہے گا جو پاکستان کے خلاف ہو حالانکہ افغانستان کے معاملے میں ہمیں انڈیا کے مقابلے میں زیادہ قربت حاصل ہونی چاہیے کیونکہ ہمارا بارڈر افغانستان کے ساتھ ملتا ہے، ہماری زبان، ثقافت اور نسل کے تعلقات افغانستان کے ساتھ زیادہ ہیں اور اُس سے بڑھ کر افغان تجارت کا زیادہ تر انحصار پاکستان پر ہے۔

’میرے خیال سے پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق بہت اچھا کام کررہے ہیں اور اُن کی کوششوں کی وجہ سے یہ مذاکرات ہو رہے ہیں، ہمیں افغانستان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہیے۔

افغان طالبان کبھی بھی بھارت کے ساتھ تعلقات نہیں بنائیں گے، فخر کاکا خیل

افغان اُمور کے ماہر اور تجزیہ نگار صحافی فخر کاکاخیل نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ افغان طالبان بلیک میلنگ کے لیے تو بھارت کے ساتھ تعلقات کا ذکر کر سکتے ہیں لیکن نظریاتی طور پر وہ چونکہ بھارت مخالف ہیں اس لیے وہ کبھی بھی بھارت کا ساتھ نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہاکہ اس وقت پوری دنیا میں ٹریڈ وارز یعنی تجارتی جنگیں چل رہی ہیں اور افغان طالبان حکومت بھی بالکل نہیں چاہے گی کہ وہ تنہا ہو جائے جس سے اُس کو تجارتی خسارے کا سامنا کرنا پڑے۔

انہوں نے کہاکہ گزشتہ مہینوں میں جب پاکستان نے طورخم اور چمن بارڈرز کو بند کیا تو اُس سے دونوں ملکوں کو کافی تجارتی نقصان ہوا۔ چین اس خطّے میں ایک استحکام لانے والی طاقت کے طور پر کام کررہا ہے اور استحکام کے لیے امن ضروری ہے۔

انہوں نے نے کہاکہ چین کو گوادر کی بندرگاہ تک پہنچنے کے لیے مختصر ترین راستہ پاکستان کے شمال سے خیبرپختونخوا سے ہوتا ہوا بلوچستان سے گزرتا ہے اور یہ علاقہ امن و امان کے مسائل کا گڑھ ہے اور چین بطور ایک سہولت کار کے کام کر رہا ہے کیونکہ اُس کا اپنا مفاد بھی وابستہ ہے۔ دوسرا یہ کہ وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ زمینی راستے افغانستان سے ہو کر گزرتے ہیں تو چین اس خطّے میں امن امان کے لیے مخلص ہے۔

یہ بھی پڑھیں پاکستان اور افغانستان: تاریخ، تضاد اور تعلقات کی نئی کروٹ

فخر کاکاخیل نے کہاکہ پاکستان، افغانستان اور ایران کو سمجھ آ چُکی ہے کہ پڑوسی نہیں بدلے جا سکتے اور اب ان تینوں ممالک کے درمیان پرامن بقائے باہمی کے حوالے سے بہتر سوجھ بوجھ بتدریج آتی چلی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews افغان طالبان افغانستان بھارت بھارت افغانستان تعلقات پاکستان پاکستان بھارت کشیدگی چین سہ فریقی مذاکرات سی پیک وی نیوز.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغان طالبان افغانستان بھارت بھارت افغانستان تعلقات پاکستان پاکستان بھارت کشیدگی چین سہ فریقی مذاکرات سی پیک وی نیوز پاکستان اور افغانستان کے اور افغانستان کے درمیان افغانستان کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات میں افغانستان افغانستان کو افغان طالبان دہشتگردی کے میں پاکستان کہ پاکستان پاکستان کے نے کہاکہ بھارت کے کہ افغان انہوں نے چین کے مئی کو ہے اور کے بعد کے لیے نے کہا

پڑھیں:

ایران اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر کے پیچھے بھی ’وردی‘ ہے: محسن نقوی

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ایران اسرائیل کے درمیان سیزفائر میں وزیراعظم کا اہم کردار ہے، جنگ بندی کے پیچھے بھی وردی ہے، سیزفائر پر پاکستان کو فخر کرنا چاہیے۔

نجی ٹی  وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری کے ہمراہ محرم الحرام کے حوالے سے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ تمام علما کرام کی آمد پر شکر گزار ہوں، قیام امن میں علما کرام نے ہمیشہ اہم کردارادا کیا، چیئرمین رویت ہلال کمیٹی تمام مکاتب فکر کے لوگوں کو ساتھ لیکر چلتے ہیں۔

بھارتی اداکارہ شیفالی زری والا کی موت پر مفتی طارق مسعود کا بیان وائرل

انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ سب کے ہیں، محرم الحرام میں مذہبی ہم آہنگی کا فروغ انتہائی ضروری ہے، قیام امن حکومت کی ترجیح ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اللہ کی نصرت سے بھارت کے خلاف جنگ میں فتح نصیب ہوئی، بھارت کی طرف سے فائر کئے گئے میزائل ہدف تک نہیں پہنچے، جوابی کارروائی میں بھارتی شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا، ہم نہیں چاہتے تھے کہ جنگ میں بھارت کے کسی سویلین کو نقصان ہو، ہمارا ایک میزائل بھارت کے آئل ڈپو میں لگا اور سویلین آبادی بچ گئی، فیلڈمارشل کو جنگ میں کسی قسم کی پریشانی نہیں تھی، بھارت نے 4 گنا زیادہ نقصان برداشت کیا، ہم جنگ میں جیت کے بعد یوم آزادی 4 گنا زیادہ منا رہے ہیں۔

سابق ایئر چیف سہیل امان نے بھارت کیخلاف جنگ کے بعد ایئر فورس کے جوانوں کی دلچسپ شکایت بتا دی 

وزیر داخلہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں جن علاقوں میں دہشت گردی زیادہ ہے وہاں علما سے بات چیت کرنا ضروری ہے، مقامی لوگوں کی مدد کے بغیر دہشت گردی ختم نہیں ہوسکتی۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ایران اوراسرائیل کے درمیان سیز فائرمیں وزیراعظم کا اہم کردار ہے، جنگ بندی کے پیچھے بھی وردی ہے۔

وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ علما کرام نے پورے پاکستان میں اپنا فرض بہترین انداز میں نبھایا، علماء کرام دہشت گردی کے خاتمے میں اپنا کردار زیادہ سے زیادہ ادا کریں، سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف نبردآزما ہیں۔

وٹامن ڈرپس سے جوان اور گورا ہونے کا جنون کتنا خطرناک ہو سکتا ہے؟ مشی خان کا بیان وائرل

طلال چودھری کا کہنا تھا کہ ہمیں کسی نفرت، فرقہ واریت یا دشمن کے ایجنڈے کا شکار نہیں ہونا، ہم سب کو متحد رہنا ہے۔

اس موقع پر چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد کا کہنا تھا کہ مذہبی ہم آہنگی، رواداری کیلئے پاکستان نے عظیم کردار پیش کیا، اللہ نے ہمیں آپریشن بنیان المرصوص میں کامیابی عطا کی، بھارت جیسے جھوٹے اور مکار ملک نے ہم پر الزام لگایا اور جارحیت کو مسلط کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور افواج پاکستان نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، یہ ملک کلمے کی بنیاد پر وجود میں آیا، عروج اللہ دیتا ہے، ہمارے دوست ملک ایران نے اسرائیل کو بھرپورجواب دیا، ایران اوراسرائیل جنگ میں پاکستان کا کردار بھی بہت روشن ہے، اللہ نے ہمیں عظیم کامیابیوں سے ہمکنار کیا ہے۔

گاڑیوں کے بعد اب موٹر سائیکل کا بھی فٹنس ٹیسٹ کروانا ہوگا، ابھی سے تیاری کر لیں

مولانا عبدالخبیر آزاد کا مزید کہنا تھا کہ محرم الحرام میں سب مراحل امن اورعافیت کے ساتھ چل رہے ہیں، دشمن بہت عیار ہے، اپنے مسلک کو چھوڑو مت اور کسی کے مسلک کو چھیڑو مت۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • روس طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا
  • روس موجودہ افغان طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا
  • کیا پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہونے والا ہے؟
  • ایران اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر کے پیچھے بھی ’وردی‘ ہے: محسن نقوی
  • پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟
  • افغان  حکومت آنے کے بعد افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے حملوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا: بلاول بھٹو زرداری 
  • ایشیا کپ 2025؛ پاکستان اور بھارت کا ٹاکرا کس دن ہوگا؟ تاریخ سامنے آگئی
  • ایشیا کپ میں پاک بھارت ٹاکرا 7 ستمبر کو دبئی میں ہوگا، بھارتی میڈیا
  • بھارت کی میزبانی میں ایشیا کپ نیوٹرل وینیو پر کھیلا جائیگا، بھارتی میڈیا
  • پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ