پاکستان کی نجی ایئر لائن کمپنی ‘ایئرسیال’ دبئی کے لیے پروازیں شروع کرنے کے لیے تیار
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
پاکستانی نجی ایئرلائن ‘ایئرسیال’ اپنے پہلے بین الاقوامی آپریشنز دبئی کے لیے شروع کرنے جارہی ہے۔
ایئرسیال لاہور اور اسلام آباد سے دبئی کے لیے پروازوں کا آغاز کررہی ہے۔ اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق نجی ایئرلائن ہفتہ وار 9 پروازوں کا ارادہ رکھتی ہے جن میں لاہور سے 2 اور اسلام آباد سے 7 پروازیں شامل ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پروازیں آغاز کرنے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں، اور ٹکٹ بکنگ جلد کھول دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: ایئر سیال کو چین و برطانیہ سمیت 7ممالک میں فلائٹ آپریشن کی اجازت مل گئی
اس قدم سے مسافروں کو بین الاقوامی سفر کے لیے ایک آسان اور سستا متبادل دستیاب ہوگا۔
پاکستان کی تیسری نجی ایئرلائن ایئرسیال اس وقت کراچی، لاہور، اسلام آباد، اور سیالکوٹ جیسے بڑے شہروں کے درمیان اندرونی پروازیں چلاتی ہے۔
اس سے قبل گزشتہ دنوں وفاقی کابینہ نے ایئر سیال کو 7 ممالک کے لیے پروازیں شروع کرنے کی اجازت دے دی تھی۔
یہ اجازت وزارت ایوی ایشن کی سفارش پر دی گئی تھی، ان ممالک میں چین، ملائیشیا، سری لنکا، تھائی لینڈ، ترکیہ، برطانیہ اور کویت شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔