غزہ میں اگلے 48 گھنٹوں میں 14 ہزار بچے مرسکتے ہیں،اقوام متحدہ نےخبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
غزہ میں اگلے 48 گھنٹوں میں 14 ہزار بچے مرسکتے ہیں،اقوام متحدہ نےخبردار کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 20 May, 2025 سب نیوز
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہےکہ غزہ میں اگلے 48 گھنٹوں میں 14 ہزار بچے بغیر امداد کے مرسکتے ہیں۔
غزہ میں امداد کی بندش سنگین صورتحال اختیارکرگئی،اقوامِ متحدہ کے انسانی امداد کے سربراہ ٹام فلیچر نےکہا کہ اگلے اڑتالیس گھنٹےمیں امداد نہ پہنچی تو چودہ ہزار بچے مرسکتے ہیں۔
ٹام فلیچر کےمطابق گزشتہ روزصرف پانچ ٹرک غزہ میں داخل ہوئے،لیکن ابھی تک امداد سامان متاثرہ علاقے تک نہیں پہنچ سکے،ٹرکوں میں بچوں کی خوراک اور غذائیت سے متعلق اشیا موجود ہیں،اقوام متحدہ کے نمائندے نے غزہ پہنچنے والی امداد کو سمندر میں قطرے کے برابر قرار دیا۔
برطانیہ،فرانس اور کینیڈا نے اسرائیل کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ جنگ اور امداد کی بندش جاری رہی تو پابندیوں کیلئے تیار رہیں۔
غزہ میں صہیونی فورسز کی جانب سے گھروں اور پناہ گزین کیمپوں پر بمباری کی گئی ہے،صبح سے اب تک 73 فلسطینی شہید ہوگئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبر’غزہ جنگ بند نہ کی تو امریکی حمایت کھو دوگے‘: ٹرمپ کا نیتن یاہو کو پیغام بھارتی پارلیمان میں ٹرمپ پر وار، جنگ بندی میں امریکی صدر کی ثالثی کا انکار کردیا امریکا نے بھارتی ٹریول ایجنٹس اور ٹریول ایجنسیوں پر ویزا پابندیاں عائد کر دیں بھارتی سپریم کورٹ، کرنل صوفیہ کو دہشت گردوں کی بہن کہنے والے وزیر کی معافی مسترد ورلڈ ہیلتھ اسمبلی نے تائیوان سے متعلق نام نہاد تجویز مسترد کردی ، چین کا خیرمقدم کتنے بھارتی طیارے تباہ ہوئے؟ اپوزیشن لیڈر نے اپنا سوال پھر دہرا دیا اسرائیلی بربریت حدود سے تجاوز کر گئی،نیتن یاہو کا غزہ پر مکمل قبضے کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ مرسکتے ہیں ہزار بچے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔