ملکی مفاد کیخلاف کام کرنیوالی ایک لاکھ سے زائد ویب سائٹس، ہزاروں یوٹیوب چینلز بلاک
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
ویب ڈیسک: پی ٹی اے نے ملکی مفاد کیخلاف کام کرنے والی ایک لاکھ سے زائد ویب سائٹس اور ہزاروں یوٹیوب چینلز بلاک کردیے۔
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے ملکی سلامتی کے لیے ملکی مفاد کے برعکس کام کرنے والی سائٹس کے خلاف بڑی کارروائی کا آغاز کردیا ہے اور لاکھوں ویب سائٹس کے ساتھ ہزاروں یوٹیوب چینلز بلاک کردیے۔
تفصیلات کے مطابق اس آپریشن میں پی ٹی اے نے ملکی سلامتی اور دفاع کے خلاف مواد پھیلانے والی ایک لاکھ 19 ہزار 496 ویب سائٹس بلاک کردیں۔ اس کے علاوہ پی ٹی اے نے 3 ہزار 248 یوٹیوب چینلز بھی بلاک کردیے۔
فیصل واوڈا ذہنی مریض ہیں اور سستے شاہ رخ خان ہیں:عظمیٰ بخاری
پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ بند ویب سائٹس کی تفصیلات جاری کرنا رازداری اصولوں کے باعث ممکن نہیں ہے۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: یوٹیوب چینلز ویب سائٹس پی ٹی اے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔