ملکی معیشت کو استحکام دینے میں آئی ٹی کا بڑا کردار ہے: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد—فائل فوٹو
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کو استحکام دینے میں آئی ٹی کا بڑا کردار ہے، آئی ٹی سیکٹر سے رقوم کی ادائیگیوں میں توازن بہتر ہوا ہے۔
کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تین سال قبل معیشت کو بڑے چیلنجز تھے، مہنگائی اور بیرونی کھاتے بڑے مسائل تھے.
انہوں نے مزید کہا کہ اپریل میں مہنگائی 0.3 فیصد کئی دھائیوں میں کم ترین ہے، ہم نے ساری ادائیگیاں کی ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)جمیل احمد نے کہا ہے کہ مہنگائی کم، بیرونی کھاتے سرپلس اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے ہیں۔
جمیل احمد کا کہنا تھا کہ قرض 2 ارب ڈالرز کم کیا ہے اور زرمبادلہ ذخائر 3 ارب ڈالرز بڑھائے، ورکرز ترسیلات میں 8 ارب ڈالرز کا اضافہ کیا ہے، اسٹیرنگ کمیٹی کے 450 اجلاس ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روایتی بینکوں کو اسلامی بینکاری پر منتقلی کا منصوبہ دے دیا ہے، افرادی قوت کی تربیت کی جا رہی ہے، اسلامک بینکاری کا قانونی فریم ورک مہیا کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔