ڈیجیٹل معیشت میں پاک-امریکا تعلقات مضبوط بنانے کیلئے اہم پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کی سب سے زیادہ نوجوان آبادی کی شرح رکھنے والا ملک ہے، پاکستانی نوجوان ویب تھری اور اے آئی مستقبل کی قیادت کے لیے تیار ہیں اور پاکستان کرپٹو کونسل پاکستان بلاک چین، اے آئی کو اپنی معیشت کا مرکز بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او نے پاکستان میں تعینات قائم مقام سفیر ناتالیابیکر سے ملاقات کی اور اس دوران نوجوانوں کے لیے اے آئی میں تعاون پرتبادلہ خیال کیا گیا اور ملاقات کا مقصد نوجوانوں کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی مہارتوں سے آگاہ کرنا تھا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کا مقصد امریکی اداروں اور پاکستانی کاروباری ماحولیاتی نظام میں روابط قائم کرنا تھا اور اس موقع پر کہا گیا کہ کونسل پاکستان بلاک چین، اے آئی کو اپنی معیشت کا مرکز بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای اوبلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان دنیا کی سب سے زیادہ نوجوان آبادی کی شرح رکھنے والا ملک ہے، پاکستانی نوجوان ویب تھری اور اے آئی مستقبل کی قیادت کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیلنٹ ایکسچینج، امریکی ٹیک کمپنیوں کے مشترکہ پروگرام شروع کیے جائیں، کونسل بلاک چین کو سفارت کاری اور تعلیم کا ایک مؤثر ذریعہ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کرپٹو کونسل کے لیے اے آئی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔