فیلڈ مارشل عاصم منیرکی تاحیات تعیناتی،بڑادعویٰسامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سینیٹر فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی بطور فیلڈ مارشل کی تعیناتی تاحیات ہے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اب تمام فورسز فیلڈ مارشل کے ماتحت ہوں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعیناتی تاحیات ہے ۔۔۔ سینیٹر فیصل واوڈا #Pakistan #SamaaTv #NadeemMalikLive pic.
— Nadeem Malik ???????? (@nadeemmalik) May 20, 2025
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل ایک روایتی عہدہ نہیں اور فیلڈ مارشل کی ملازمت میں کوئی مدت کا تعین نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تمام تعیناتیاں ، مدت میں توسیع اور ترقیوں کا فیصلہ فیلڈ مارشل ہی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سابق صدر ایوب خان پر جتنی بھی تنقید کریں لیکن ہم اُس دور کی چیزیں چلا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اسمارٹ وزیراعظم اور قابل ایڈمنسٹریٹر ہیں، بات چیت کا راستہ کھولیں اور معاملات آگے بڑھائیں تاہم ابھی بانی پی ٹی آئی کی رہائی نہیں دیکھ رہا۔
بیرسٹر عقیل
پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کابینہ اجلاس میں آرمی چیف عاصم منیر کو ترقی دینے کی تجویز دی جبکہ ایئر چیف کو مدت ملازمت میں توسیع دینے کا فیصلہ کیا گیا ، ان کی ریٹائرمنٹ میں ابھی وقت ہے۔
بیرسٹر عقیل کا کہنا تھا کہ حکومت نے تمام سروسز چیفس کی مدت ملازمت کا تعین کیا اور سروسز چیفس کی مدت ملازمت کی قانون سازی اسی پارلیمنٹ نے کی۔
مزیدپڑھیں:فوج میں فیلڈ مارشل عہدہ کیا ہوتا ہے؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ فیصل واوڈا فیلڈ مارشل
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔