برطانیہ؛ مصری نژاد شہری کو انسانی اسمگلنگ کے الزام میں 25 سال قید
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
برطانیہ میں مقیم احمد ایبِد نامی مصری باشندے نے 2022 سے 2023 کے درمیان 3 ہزار 800 سے زائد تارکین وطن کو غیر قانونی طریقے سے یورپ منتقل کیا تھا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ کی ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ نے 42 سالہ مصری نژاد احمد ایبد کو 25 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
عدالت نے فیصلے میں لکھا کی احمد ایبد کا انسانی اسمگلنگ کے ذریعے کسی کو روزگار فراہم کرنا نہیں بلکہ صرف پیسا کمانا تھا چاہے اس میں تارکین وطن کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔
مصری شخص پر الزام تھا کہ اس نے 3 ہزار 800 تارکین وطن کو غیر محفوظ اور غیر قانونی طریقے سے براستہ بحیرہ روم برطانیہ اور یورپ منتقل کیا۔
احمد ایبد پر یہ الزام بھی تھا کہ اس نے رشوت، دھمکیوں اور تشدد کے ذریعے انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال کر صرف مالی مفاد حاصل کرنا چاہا تھا۔
برطانوی انویسٹی گیشن اداروں کو تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ احمد ایبد نے نہ صرف سیکیورٹی حکام کو رشوت دی بلکہ اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ کسی تارک وطن کے پاس فون ہوتو اسے قتل کر کے سمندر میں پھینک دیں۔
واضح رہے کہ برطانیہ کی نئی حکومت نے انسانی اسمگلنگ جیسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: احمد ایبد
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔