ڈرامہ سیریل ’ڈائن‘ میں معروف اداکار احسن خان نے کتنا معاوضہ لیا؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
پاکستانی اداکاراحسن خان کو کون نہیں جانتا، وہ ایک برطانوی پاکستانی اداکار، پروڈیوسر اور ٹی وی میزبان ہیں۔ انہوں نے 1998 میں اداکاری کا آغاز کیا۔ وہ شادی، بلی، گھر کب آو گے، سلطان، عشق خدا، دل میرا دھڑکن تیری، فلموں میں نظر آئے اور بعد میں ٹیلی ویژن پر چلے گئے۔ انہوں نے رمضان کے دوران ایک کوئز شو حی علی الفلاح کی میزبانی بھی کی۔
احسن خان نے حال ہی میں اپنے مداحوں کو یہ بتا کر سب کو حیران کن کردیا کہ انہوں نے ڈرامہ سیریل’ڈائن’ میں کام کرنے کے لیے 1 کروڑ روپے معاوضہ لیا ہے۔
اس ڈرامے میں ان کے ساتھ معروف اداکارہ مہوش حیات کی جوڑی ہے، جس نے ناظرین کی بھرپور توجہ حاصل کی ہے۔ احسن خان کا کہنا ہے کہ مہوش حیات کے ساتھ ان کی جوڑی پہلے بھی کامیاب رہی ہے اور ناظرین ہمیشہ انہیں ایک ساتھ اسکرین پر پسند کرتے ہیں۔
ڈرامہ ’ڈائن‘ کی کہانی فاطمہ فیضان اور عنبر اظہر نے تحریر کی ہے، اور اس کی ہدایات سراج الحق نے دی ہیں۔ اس کی کہانی نہ صرف ستم سہنے کی روداد نہیں بلکہ ایک طاقتور اور دلیری کی داستان ہے، جس میں مرکزی کرداروں کی زندگی میں پیچیدہ اور جرات مندانہ فیصلے دکھائے گئے ہیں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔